"شامی حکومت حزب اللہ سے نہیں عوامی حمایت سے قائم ہے"

جنگ میں اڑھائی لاکھ جانیں ضائع ہوئیں: خاتون مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی صدر بشار الاسد کی مقرب خاص مشیر برائے اطلاعات بثنیہ شعبان نے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد ابھی تک باغیوں کے مقابلے میں میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں تو کسی دوسرے ملک یا تنظیم حتٰی کہ لبنانی حزب اللہ کی وجہ سے نہیں بلکہ ہماری طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والی خونی بغاوت کی سازش نے ڈھائی لاکھ افراد کی جانیں لے لی ہیں۔

شامی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے"النشرہ" نیوز ویب پورٹل کے مطابق ایک بیان میں بثنیہ شعبان نے کہا کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران ہمارے دوست ذرائع ابلاغ نے کچھ ایسی رپورٹس اور انٹرویو نشر کرنا شروع کر دیے ہیں جن میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت فلاں ملک یا فلاں تنظیم کی وجہ سے قائم ہے۔ میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ہم کسی دوسرےملک یا تنظیم کی وجہ سے استقامت سے ڈٹے ہوئے نہیں بلکہ ہماری طاقت عوام ہیں، جنہوں نے اپنے ڈھائی لاکھ پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔

یاد رہے کہ لبنانی شیعہ عسکری تنظیم حزب اللہ کے سربراہ الشیخ حسن نصراللہ کا کہنا ہے ہم سے شام میں مداخلت میں تاخیر ہوئی، تاہم بشارالاسد کی حکومت کو بچا لیا گیا ہے۔ لبنانی اخبار "السفیر" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ شام مخالف قوتوں کا مقصد بشارا لاسد کی ہٹانا نہیں بلکہ شام کی طاقتور فوج، ریاست اور تمام اداروں کو تباہ کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں