.

انتہا پسند مصری سیاستدان کو توہین عدالت کی پاداش میں سزا

ججوں کو ٹوکنا شکست خوردہ صدارتی امیدوار کو مہنگا پڑ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی ایک فوجداری عدالت نے شکست خوردہ سابق صدارتی امیدوار اور سخت گیر سلفی مسلک کے سرکردہ رہنما حازم صلاح ابو اسماعیل کو ایک مقدمے کے دوران توہین عدالت کے الزام میں ایک سال قید بامشقت کی سزا کا حکم دیا ہے۔

ابو اسماعیل پر الزام ہے کہ انہوں نے سنہ 2012ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے قبل جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں اپنی والدہ کو "غلط بیانی" کرتے ہوئے مصری قرار دیا تھا جبکہ تحقیق کے بعد پتا چلا کہ ان کی والدہ کے پاس امریکی شہریت بھی ہے۔

اس سلسلے میں جاری مقدمہ کی کارروائی میں گذشتہ روز حازم ابو اسماعیل نے عدالت کے فاضل ججوں کو بار بار ٹوکنے کی کوشش کی جس پر بنچ نے انہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک سال کی سزا کا حکم دیا ہے۔ جبکہ دروغ گوئی کیس کا فیصلہ سولہ اپریل کو سنائے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ ابو اسماعیل کو گذشتہ برس صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ ان پر عدالت کے سامنے والدہ کی شہریت کے بارے میں دروغ گوئی کا مقدمہ قائم کیا گیا جس کی ایک سماعت رواں سال کے آغاز میں ہوئی تھی۔

عدالت کے ایک ذریعے نے "رائیٹرز" کو بتایا کہ ہفتے کے روز کیس کی سماعت کے دوران حازم ابو اسماعیل کو بھی پیش کیا گیا۔ ان کا ایک وکیل پہلے ہی بائیکاٹ کرگیا تھا جس کے بعد ایک خاتون وکیل کو ان کی طرف سے اپنا موقف بیان کرنے کی ہدایت کی گئی لیکن ابو اسماعیل خاتون کے بیان اور ججوں کے ریمارکس کو مسلسل ٹوکنے لگے۔

انہوں نے کہا کہ میں آج بھی وہی بات کہتا ہوں جو کئی ہفتے قبل کہہ چکا ہوں۔ میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ میں عدالت میں نہیں ہوں۔ میں کسی عدالت کو نہیں مانتا۔ فاضل ججوں کی جانب سے تنبیہ کے باوجود حازم اسماعیل نے مسلسل قطع کلامی کا سلسلہ جاری رکھا جس پر عدالت نے انہیں ایک سال قید با مشقت کی سزا کا حکم دیتے ہوئے انہیں فوری جیل میں بند کرنے کا حکم دیا۔