.

جنگ میں حکومت کا پلڑا بھاری ہو رہا ہے: بشارالاسد

فوج کو ''دہشت گردی'' کے خلاف جنگ میں کامیابیاں مل رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد میدان جنگ میں باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں اپنی وفادار فوج کی حالیہ کامیابیوں کے بعد اب دھیرے دھیرے بااعتماد ہوتے جارہے ہیں اور ان کے اس اعتماد کا مظہر سرکاری ٹیلی ویژن سے اتوار کو نشر ہونے والا ان کا وہ بیان ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ملک میں جاری خانہ جنگی میں حکومت کا پلڑا بھاری ہو رہا ہے۔

بشارالاسد نے بیان میں کہا کہ ''بحران کا یہ ٹرننگ پوائنٹ ہے۔عسکری لحاظ سے فوج کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں ملی ہیں تو سماجی طور پر قومی مصالحتی عمل آگے بڑھا ہے اور ملک کو ہدف بنانے کے لیے حملوں کے بارے میں آگہی میں اضافہ ہوا ہے''۔

گذشتہ ہفتے شامی صدر کی اتحادی لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ اب بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کا کوئی خطرہ درپیش نہیں رہا ہے۔

انھوں نے لبنانی روزنامے السفیر کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ''شامی رجیم کے خاتمے کا خطرہ جاتا رہا ہے۔باغی فنڈز مہیا کرنے والے ممالک کی جانب سے مدد جاری رہنے تک تباہی کی جنگ کو جاری رکھ سکتے ہیں لیکن حزب اختلاف اب کوئی بڑی جنگ مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اللاذقیہ اور کسب میں کیا ہواہے،اس کو ہم ایک بڑی جنگ نہیں کہہ سکتے ہیں''۔ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین سال سے جاری تنازعے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اسد رجیم کمزور نہیں ہے اور صدر کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے۔

حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ ''ہم شام کو تقسیم کرنے کے خطرے سے نکل آئے ہیں''۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ صدر بشارالاسد کو عرب ریاستوں کی جانب سے ایران سے تعلقات منقطع کرنے کی صورت میں سفارتی پیش کشیں کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ حزب اللہ شام میں شامی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف جنگ لڑرہی ہے اور شامی حکومت اور اس کے اتحادی اسدی فوج کے خلاف محاذآراء باغی گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں۔ان میں سے بیشتر پڑوسی ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں یا پھر اندرون ملک دربدر ہیں۔