.

فلسطینی نونہال کی جیل میں والد سے ملاقات پر پابندی

مجد الملائیکی زیر حراست والد کے اسمگل نطفے سے پیدا ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جدید سائنس اور آئی وی ایف طریقہ تولید نے اسیر فلسطینی شوہروں کے اسمگل شدہ جرثوموں کی مدد سے بچوں کی پیدائش کی راہ ہموار کی مگر ان نو مولودوں کو ان کے اسیر والدین سے ملانے کے لیے کوئی طریقہ ایجاد نہیں ہو سکا کیونکہ اسرائیلی انتظامیہ کو اس پر سخت غصہ ہے کہ فلسطینی قیدیوں نے ان کی اجازت کے بغیر مادہ منویہ اسمگل کر کے بچے کیوں پیدا کرنا شروع کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عبدالکریم الریماوی کے اسمگل شدہ جرثومے کی ذریعے پیدا ہونے والے بیٹے مجد الملائیکی کی عمر اب نو ماہ ہو چکی ہے لیکن اسرائیلی جیل انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے بچے کو جیل میں والد سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے اسیر فلسطینی الریماوی کو اپنا مادہ تولید اسمگل کرنے کی پاداش میں پانچ ہزار شیکل جرمانہ اور دو ماہ تک اہل خانہ سے ملاقات پر پابندی کی اضافی سزا بھی سنائی ہے۔

بچے کی والدہ لیدا الریماوی نے سمگل شدہ جرثومے کے ذریعے حاملہ ہونے والی 14 فلسطینی خواتین کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اسرائیل نے اس کے لخت جگر مجد الملائکی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی بار بچے کو لے کر جیل میں والد سے ملاقات کرنے گئی لیکن جیلروں نے نہ صرف ان کی ملاقات نہیں کرائی بلکہ الٹا ان کی تذلیل کی ہے۔

خیال رہے کہ مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948ء کے مقبوضہ عرب شہر سے تعلق رکھنے والے عبدالکریم الریماوی اور کئی دوسرے قیدیوں کے مادہ منویہ انتہائی راز داری سے حاصل کیے گئے جنہیں بعد ازاں ان کی بیگمات کے رحم میں منتقل کیا گیا۔ ان میں لیدا الریماوی اور ایک دوسری خاتون ماں بن چکی ہیں جبکہ زیر حراست شوہروں کے اسمگل شدہ نطفے کی اپنے رحم میں منتقلی کے باعث ڈیڑھ درجن کے قریب فلسطینی خواتین کے پاوں بھاری ہیں۔