.

مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں میں جھڑپ

مغربی کنارے کے گاؤں سے دو فلسطینی خواتین اور تین غیر ملکی صحافی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے احاطے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان اتوار کو جھڑپ ہوئی ہے لیکن فوری طور پر اس میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ نے کہا ہے کہ ''جھڑپ پولیس کی جانب سے مسجد الاقصیٰ کے غیرمسلم زائرین کے لیے مخصوص ایک دروازے کو کھولنے کے بعد شروع ہوئی تھی۔اس کے ردعمل میں پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔اس پر پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو ڈرانے کے لیے آواز پیدا کرنے والے دستی بم پھینکے اور ہیکل سلیمانی والے حصے میں داخل ہوگئے''۔

مسجد اقصیٰ کے فصیل نما احاطے میں گنبد صخرہ واقع ہے۔اس جگہ غیر مسلموں کو تو جانے کی اجازت ہے لیکن یہودیوں کو اس جگہ جانے اور عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔اسرائیلی پولیس کے ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ پولیس اہلکار وہاں کیا لینے گئے تھے اور انھوں نے زبردستی دروازہ کیوں کھلوایا تھا۔

گاؤں فوجی علاقہ قرار

درایں اثناء اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے وسط میں واقع گاؤں نبی صالح کا محاصرہ کر لیا ہے اور اس کو فلسطینیوں کے آئے دن کے احتجاج کے پیش نظر کڑی نگرانی والا فوجی علاقہ قراردے دیا ہے۔

فلسطینی خبررساں ایجنسی معان کی اطلاع کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز اس گاؤں میں داخل ہونے کے بعد مکمل ناکہ بندی کردی ہے۔فوجیوں نے مرکزی شاہراہوں کو بند کردیا ہے اور ایک مرکزی سڑک پر آہنی گیٹ بند کردیا ہے اور دوسری شاہراہوں پر بلڈوزر کھڑے کر دیے ہیں تاکہ گاؤں میں گاڑیوں کی آمد ورفت کو روکا جاسکے۔

اسرائیلی فورسز کی اس جابرانہ کارروائی کے خلاف فلسطینیوں نے احتجاج کیا ہے مگر انھیں زبردستی منتشر کردیا گیا اور دوفلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔اسرائیلی فوجیوں نے احتجاج میں حصہ لینے پر پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ان میں دوفلسطینی خواتین اور تین غیرملکی صحافی ہیں۔مظاہرے کے دوران ایک فرانسیسی صحافی معمولی زخمی ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ نبی صالح میں اسرائیل کی جانب سے تعمیر کردہ علاحدگی کی دیوار کے خلاف ہفتہ وار احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں اور گاؤں کے مکین فلسطینی اسرائیلی فورسز سے دیوار کی تعمیر کے لیے ضبط کی گئی اراضی واپس کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔