.

متحارب قبائل میں صلح کے لیے شیخ الازھر کی اسوان آمد

نقصان کے ازالے اور صلح کی نگرانی کے لیے کمیٹی قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ممتاز عالم دین اور ملک کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر کے سربراہ الشیخ احمد الطیب نے ہفتے کے روز صوبہ اسوان کے دو متحارب قبائل کے عمائدین سے ملاقات کی۔ شیخ الازھر نے متحارب قبیلوں بنی ھلال اور الدابودیہ کے رہ نماؤں سے ملاقات کے دوران ان پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات بات چیت کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کریں اور مزید خون خرابے سے بچیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے ان دونوں قبیلوں کے درمیان اچانک چھڑنے والی جنگ میں دونوں طرف کم سے کم 26 افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہو گئے تھے۔

مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی 'مینا' کے مطابق قبائلی عمائدین سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الشیخ الازھر نے کہا کہ دونوں قبائل کے درمیان صلح ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام رنگ، نسب اور قبیلے کی بنیاد پر تفاخر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ "میں نے دونوں قبائل کے رہ نماؤں سے بات کی ہے اور انہیں صلح پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہا ہوں۔ اب دونوں قبیلوں نے مزید خون خرابہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور اپنے دلوں سے ایک دوسرے کے خلاف دشمنی ختم کر دی ہے۔"

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا کہ جامعہ الازھر نے مصطفیٰ یسری کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے جو مفاہمتی اور مصالحتی عمل کی نہ صرف نگرانی کرے گی بلکہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہوئے ہر حق دار کو اس کا حق دلائے گی۔

اس موقع پر قبیلہ بنی ہلال کے ایک رہ نما احمد السید نے شیخ الازھر کی مصالحتی مساعی کو سراہتے ہوئے متحارب قبائل میں صلح کرانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے پناہ جانی نقصان کے باوجود ہم مخالف قبیلے سے صلح پر تیار ہیں۔ امید ہے کہ الدابودیہ قبیلے کی جانب سے بھی کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی جائے گی۔