.

اسد حکومت ہمارے تعاون سے قائم ہے: ایرانی عہدیدار

'ایران کی مرضی کے بغیر بشارالاسد کو اقتدار سے نہیں ہٹایا جا سکتا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے ائیر چیف نے کہا ہے کہ اگر تہران، دمشق کی مدد نہ کرتا تو بشار الاسد کب کے جنگ ہار چکے ہوتے۔ ان کی حکومت ایرانی مدد کی مرہون منت ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی"فارس" نے ایرانی فضائیہ کے سربراہ جنرل امیر علی حجی زادہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ بشارالاسد بیرونی حمایت یافتہ باغیوں کو شکست دینے میں اس لیے کامیاب رہے ہیں کہ ہم ان کی پشت پر کھڑے ہیں۔ جب تک ہم چاہیں گے بشار الاسد کو اقتدار سے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔

رپورٹ کے مطابق جنرل حجی زادہ نے تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے 86 ممالک باغیوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے شام میں حکومت کی تبدیلی اور بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر ناکام رہے۔ انہیں ناکام ہی ہونا تھا کیونکہ ایران بشار الاسد کی حمایت جو کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے واضح الفاظ میں شام میں اپنی شکست تسلیم کی ہے اور کہا ہے کہ دمشق کا منظرنامہ حزب اللہ اور ایران کی مرضی کے مطابق تبدیل ہو رہا ہے۔

ایرانی فوجی عدیدارکے بیان سے چند روز قبل حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹرل جنرل نعیم قاسم کا بھی اس سے ملتا جلتا بیان سامنے آ چکا ہے۔ نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ شامی باغیوں کی مدد کرنے والے عرب اور مغربی ممالک کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے بشار الاسد پیش آئند صدارتی انتخابات میں نہ صرف امیدوار بنیں گے بلکہ وہ کامیاب بھی ہوں گے چاہے ملک کے بعض علاقوں پر باغیوں کا قبضہ ہی کیوں نہ ہو جائے۔ بشار الاسد کو حکومت بنانے سے نہیں روکا جا سکتا۔