.

السیسی باضابطہ طور پر صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل

سابق آرمی چیف کے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی مسلح افواج کے سابق سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی باضابطہ طور پر صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شریک ہوگئے ہیں اور ان کے حامیوں نے دارالحکومت قاہرہ میں الیکٹورل کمیشن کے روبرو ان کے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔

انسٹھ سالہ السیسی کی جانب سے وکیل ابو شوقہ نے سوموار کو کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ان کے ساتھ شہریوں کی جانب سے تائیدی دستخط اور میڈیکل رپورٹس منسلک ہیں۔واضح رہے کہ مصری قانون کے تحت صدارتی امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ کم سے کم پچیس ہزار شہریوں کے دستخط بھی جمع کرائے۔فیلڈ مارشل السیسی کے حق میں ملک بھر سے چار لاکھ ساٹھ ہزار شہریوں نے تائیدی دستخط کیے ہیں۔

عبدالفتاح السیسی نے گذشتہ سال جولائی میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت برطرف کردی تھی۔وہ فوج کی سپہ سالاری اور وزارت دفاع سے دستبردار ہونے کے بعد اب نائب وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہیں۔ان کے بارے میں یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ 26 اور 27 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں بآسانی کامیاب ہوجائیں گے۔

صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند امیدوار 31 مارچ سے 20 اپریل تک کاغذات نامزدگی جمع کراسکتے ہیں اور الیکشن کمیشن 2 مئی کو انتخابی امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرے گا۔اس سے ایک روز بعد انتخابی مہم باضابطہ طور پر شروع ہوگی۔

اب تک دواور امیدواروں حمدین صباحی اور مرتضیٰ منصور نے صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔اول الذکر 2012ء میں منعقدہ صدارتی انتخاب میں شکست سے دوچار ہوئے تھے۔مرتضیٰ منصور سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف انتخابی مہم چلانے والے سیاسی کارکنان کے سخت ناقد ہیں۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے حمدین صباحی نے عبدالفتاح السیسی کے خلاف حالیہ دنوں میں سخت لب ولہجہ اختیار کیا ہے اور انھوں نے ہفتے کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ کرپشن سے آلودہ شخصیات سابق آرمی چیف کی صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے حمایت کر رہی ہیں۔