.

ایرانی جوہری تنازعہ، امریکی موقف سرنڈر ہے: اسرائیل

اسرائیلی وزیر برائے انٹیلیجنس کی کیری پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے حساس اداروں اور تزویراتی شعبے سے متعلق وزیر نے امریکی وزیر خارجہ کے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں تازہ بیان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ'' جان کیری کے یہ خیالات تہران کے سامنے امریکی سرنڈر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ '' اسرائیلی وزیر نے کہا ''جان کیری کی طرف سے کانگریس میں ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے یہ پریشان کن، حیران کن اور ناقابل قبول ہیں۔''

اس سے پہلے اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعلون بھی ایک سے زائد بار کھل کر امریکا اور اس کے وزیر خارجہ پر مشرق وسطی کیلیے امن مذاکرات کے حوالے سے تنقید کر چکے ہیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے معذرت کر لی تھی۔

اسرائیلی وزیر نے اسرائیل کے سرکاری ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا '' ہم ایران کے ساتھ جوہری معاملے پر مذاکرات کو تشویش سے دیکھتے ہیں، اگرچہ ہم مسئلے کے سفارتی حل کے خلاف نہیں لیکن ہم ایران کے سامنے سرنڈر کر دینے کے خلاف ہیں کہ اسے ایک جوہری ریاست بننے کا موقع دے دیا جائے۔''

جان کیری نے پچھلے ہفتے امریکی قانون سازوں کے سامنے کہا تھا کہ '' اسلامی جمہوریہ ایران دو ماہ میں جوہری بم بنانے کیلیے ضروری یورینیم حاصل کر سکتا ہے۔ '' اس لیے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ وقت کی مہلت کو نہ بڑھائے، اس صورت میں ایران جوہری بم بنانے کی طرف بڑھ جائے گا اور چھ سے بارہ ماہ کے اندر اندر ایران جوہری ہتھیار بنا سکے گا۔''

جان کیری نے مزید کہا '' ہمارا حتمی ہدف ایران کو ایسا کرنے سے روکنا ہے، تاہم مذاکراتی عمل کا سست رفتار ہونا ایران کے حق میں بہتر ہو سکتا ہے۔ '' امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا '' میرا خیال ہے کہ یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہہ ہم کوشاں ہیں کہ جوہری ہتھیاروں کو روکا جائے جن کیلیے جو دو ماہ ، چھ ماہ یا ایک سال کا وقت ہو سکتا ہے۔''

اسرائیلی وزیر نے کہا '' اسرائیل اس منظر نامے کی اجازت نہیں دے گا۔'' انہوں نے کہا ''ہم ایسے کسی معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جس سے ایران کو مہینوں یا ایک سال کا وقت مل جائے۔'' واضح رہے ایک روز قبل ہی سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے کہا تھا کہ ایران جوہری بم بنا بھی لے تو اس کے خلا ف فوجی کارروائی نہیں کرنا چاہیے۔