.

شامی خانہ جنگی اللاذقیہ پہنچ گئی، شہری خوف کے شکار

حکمران علوی قبیلے کے گڑھ میں خون ریزی کا خدشہ بڑھ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف تین سال سے جاری مسلح بغاوت کی تحریک میں بعض شہر کسی حد تک بڑے پیمانے پر خون خرابے سے محفوظ رہے ہیں۔ ان ہی میں ساحلی شہر اللاذقیہ بھی شامل ہے۔ اس شہر کی اہم خصوصیات میں سے ایک یہ ہے اس میں صدر بشار الاسد کے وفادار علوی قبیلے کی اکثریت یہاں مقیم ہے جبکہ ترکی کے قریب ہونے کی بدولت بھی اس شہر کی تزویراتی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی"رائیٹرز" نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی اب اللاذقیہ کے دروازے پر دستک دینے لگی ہے جس کے باعث شہری سخت خوف کا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ چند ہفتوں کے دوران باغی فورسز ترکی کی سرحد کو استعمال کرتے ہوئے اللاذقیہ شہر کے مضافات میں داخل ہونے کے بعد اپنی گرفت مضبوط بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں تاہم اندرون شہر اب بھی سرکاری فوج کا مضبوط کنٹرول قائم ہے۔ چند روز پیشتر باغیوں نے ساحل سمندر کے ساتھ سرکاری فوج کے اہم عسکری مرکز 45 ویں آبزرویٹری پر کنٹرول حاصل کر کے علامتی طور پر اپنی فتح کا پرچم لہرا دیا تھا لیکن اس کے بعد باغی مزید پیش قدمی نہیں کر سکے ہیں۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اللاذقیہ شہر میں عراق، ایران اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد کو گشت کرتے دیکھا ہے جو شہر کی سنی مسلک آبادی اور ترکمانی باشندوں پر کسی بھی وقت جارحیت مسلط کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی انہونی کے خوف سے شہریوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔