.

شام: قدیمی مسیحی گاوں پر سرکاری فوج کا قبضہ

چار ماہ قبل اسلامی عسکریت پسندوں نے قبضہ کر لیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے شام کے قدیمی مسیحی گاوں کا قبضہ واپس لے لیا ہے۔ صدیوں پرانا مسیحی گاوں شام اور لبنان کی سرحد پر واقع ہے، جس پر چند ماہ پہلے اسلام پسند عسکریت پسندوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

پیر کے روز شامی فوج نے چار ماہ پر محیط یہ قبضہ ختم کرا دیا ہے۔ سرکاری فوجی حکام کے مطابق مالولا نامی قدیمی گاوں پر سرکاری افواج کا مکمل کنٹرول ہونے کے بعد دوبارہ امن بحال ہو گیا ہے۔

واضح رہے مالولا شام میں ایسا مسیحی شناخت کا حامل گاوں ہے، جس کے تقریبا 5000 باشندے آج بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے دور کی آرامی زبان بولتے ہیں۔ شامی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو قلمون میں شکست دے دی گئی ہے۔

مسیحی قصبے پر عسکریت پسندوں کے قبضے کے بعد 13 راہباوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا ۔ خبر رساں ادارے کے مطابق بشار الاسد رجیم نے لبنان کی سرحد سے جڑے ہوئے پہاڑی علاقےقلمون میں بھی باغیوں کے مضبوط گڑھ فتح کر لیے ہیں۔ قلمون کے ان علاقوں میں باغیوں کا کنٹرول ختم کرنے کیلیے ایران کے زیر اثر لبنانی حزب اللہ نے بھی شامی فوج کی مدد کی ہے۔ حزب اللہ ان دنوں شامی حکومت کیلیے نئے عزم سے سر گرم ہے۔