.

مہلگ گیس بموں کی تیاری میں ایران، دمشق کا مددگار: اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کے سینیئر رہ نما اور عبوری وزیر دفاع اسعد مصطفیٰ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی ماہرین کی مدد سے شام میں مہلک زہریلے گیس بم تیار کیے جا رہے ہیں جنہیں بیرل بموں کے متبادل کے طور پر باغیوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

'العربیہ' کے برادر ٹی وی چینل 'الحدث' سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن کے نامزد وزیر دفاع نے کہا کہ دمشق میں کفر سوسہ کے مقام پر سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ میں مہلک گیسوں کے استعمال سے بم بنائے جا رہے ہیں، جن میں ایرانی ماہرین کام کرتے ہیں۔

اسعد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ شام میں سات ایسے مقامات ہیں جہاں پر مہلک گیسوں کے ذریعے بم بنائے جاتے ہیں اور ان بموں کی تیاری میں ایرانی ماہرین کام کر رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں اسعد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ شامی فوج نے گذشتہ دو روز میں حلب کے شہروں جوبر اور رنکوس میں زہریلی گیس پھیلانے والے بم استعمال کیے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کا جانی نقصان ہوا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں شامی فوج نے حماۃ شہر میں با کفر زیتا کے مقام پر باغیوں کے خلاف "الکلور" نامی زہریلی گیس سے تیار کردہ بم استعمال کیے تھے۔ اس کے علاوہ ادلب کے نواحی علاقے خان شیخون اور دمشق میں حرستا کے مقام پر مہلک ہتھیاروں سے حملے کیے جا چکے ہیں۔

اسعد مصطفیٰ نے دعویٰ کیا کہ حلب میں ملٹری انٹیلی جنس کے ہیڈکواٹرز کے محاصرے، قصر العدل اور کئی دوسری اہم سرکاری عمارتوں پر جیش الحر کے کنٹرول کے بعد شامی فوج کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اسدی فوج اپنے حامی عسکری گروپوں کی مدد سے حلب میں باغیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہی ہے۔

اپوزیشن رہ نما نے شامی حکومت کی جانب سے باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں کو تلفی کے لیے لے جانے والے قافلوں کی راہ روکنے کے الزامات مسترد کر دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلابی کارکنوں کے کنٹرول کے کسی علاقے میں کسی بین الاقوامی قافلے کو نہیں روکا گیا۔