.

شامی باغیوں کے حملے میں "المنار" ٹی وی کے تین کارکن ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے زیر انتظام نشریات پیش کرنے والے "المنار" ٹیلی ویژن چینل کے عملے میں شامل تین افراد شام کے معلولا قصبے میں باغیوں کے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس قصبے پر گذشتہ روز شامی فوج نے قبضے کا دعویٰ کیا تھ، تاہم پچھلے کئی روز سے بشارالاسد کی حامی اور مخالف فوج کے درمیاں یہاں خون ریز جنگ جاری رہی ہے۔

"المنار" ٹی وی کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ کل پیر کے روز دمشق کے شمالی قصبے معلولا میں اس وقت پیش آیا جب شامی باغیوں کے ایک گروپ نے گھات لگا کر ٹی وی کے عملے پر حملہ کر دیا۔ کارروائی میں ٹی وی کا رپورٹر حمزہ الحال حسن، فوٹو گرافر محمد منتش اور ایک ٹیکنیشن حلیم علوہ مارے گئے۔ رپورٹ میں باغیوں کے ہاتھوں مرنے والے تینوں افراد کو 'شہید' قرار دیتے ہوئے ان کے لواحقین سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔

خیال رہے کہ شمالی دمشق میں معلولا قصبہ پچھلے کئی روز سے شامی فوج اور باغیوں کے درمیان میدان جنگ بنا رہا ہے۔ گذشتہ روز شامی فوج نے معلولا کو باغیوں سے خالی کرانے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد صحافیوں کو متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی، تاہم قصبے کے زیریں علاقے اب بھی باغیوں کے کنٹرول میں ہیں اور المنار ٹی وی کی ٹیم پر وہیں حملہ کیا گیا۔

واقعے سے قبل صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم "رپورٹرز ود آٶٹ باڈرز" کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سنہ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف برپا ہونے والی عوامی بغاوت کے دوران اب تک 100 صحافی مارے جا چکے ہیں۔ ان میں 28 پچھلے ایک سال میں مارے گئے جن میں نو غیر ملکی تھے۔

تشدد کے یہ واقعات ایک ایسے وقت میں رونما ہو رہے ہیں جب دوسری جانب صدر بشارالاسد یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ باغیوں کی تحریک دم توڑ رہی ہے اور رواں سال کے آخر تک وہ بغاوت کو مکمل طور پر کچل دیں گے۔