.

قذافی کے بیٹوں اور 39 دیگر کیخلاف مقدمہ شروع

سابق انٹیلی جنس چیف سمیت ملزمان کیلیے سزائے موت کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں سابق حکمران معمر قذافی کے دو بیٹوں سیف الاسلام اور سعدی سمیت سابق دور کی 39 اہم شخصیات کیخلاف سماعت کی شروعات ہو گئی ہیں، تاہم عدالت نے سماعت کے آغاز کے ساتھ ہی کارروائی یہ کہہ کر ملتوی کر دی گئی کہ اس مقدمے میں ضروری تحقیقات مکمل نہیں کی گئی ہیں۔

واضح رہے قذافی کے بیٹوں سیف اور سعدی کو 2011 میں تحریک مزاحمت کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو یہ دونوں عدالت میں پیش نہ کیے گئے تھے البتہ قذافی دور انٹیلی جنس چیف عبداللہ السینوسی دیگر سابق حکام کے ساتھ سماعت کے موقع پر موجود تھے۔

تمام ملزمان نیلے رنگ کے مخصوص لباس میں ایک آہنی پنجرے میں بند تھے۔ ان تمام ملزمان کو مبینہ کرپشن، جنگی جرائم سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔ جبکہ معمر قذافی کو کئی ماہ کی روپوشی کے بعد باغیوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ مقدمات میں ملوث ان سابق حکام میں سے کئی کو سزائے موت بھی مل سکتی ہے۔

لیبیا جو تیل کی پیداوار کے حوالے سے اہم ملک ہے قانون کی عملداری کیلیے کوشاں ہے کہ 2011 کے بعد بندوق بردار ملک میں حاوی نظر آتے ہیں۔ واضح رہے سعدی قذافی کو ملک میں ایک پلے بوائے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سعدی کچھ عرصہ فٹبال بھی کھیلتا رہا جسے نیجر میں گرفتاری کے بعد لیبیا کے حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔ سعدی قذافی کو پہلی عدالتی سماعت کے موقع پر پیش نہ کرنے کی وجہ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا ہے کہ سعدی کے خلاف تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

سابق مطلق العنان حکمران قذافی کے زیادہ مشہور بیٹے سیف الاسلام ابھی تک ایک مضبوط قبیلے کی حراست میں ہیں اور اسے ابھی تک لیبی حکام کے حوالے نہیں کیا گیا ہے بلکہ زنتان قبیلہ سیف الاسلام کو حکام کے سپرد کرنے سے انکار کر چکا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق سے متعلق ادارے اور عالمی تنظیمیں اس انداز سے سابق حکام اور قذافی کے بیٹوں کیخلاف مقمات چلانے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں کہ اس طرح انصاف کے تقاضے پورا کرنا مشکل ہو گا۔

ملزمان کے وکلاء کو اس مقدمے میں تاخیر کے ساتھ استغاثہ کی طرف سے پیش کی جانے والی شہادتوں کے طریقہ پر بھی اعتراض ہے ، ہیومن رائٹس واچ ایسے عالمی ادارے کو بھی تحفظات ہیں۔ اگرچہ لیبی وزیر انصاف کا کہنا ہے مقدمے کھلا مقدمہ ہے اور اس مقدمے کو'' مکی ماوس'' طرز کی سماعت نہیں بننے دیں گے۔