"عالمی پابندیوں کے منفی اثرات چند ماہ میں ختم کر دیں گے"

ایرانی صدر حسن روحانی کا شورش زدہ صوبہ بلوچستان کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث ان کے ملک پر عائد عالمی اقتصادی پابندیوں کا مسئلہ پیش آئند چند ماہ میں مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔

صدر حسن روحانی نے یہ بات ایران کے سنی اکثریتی صوبہ سیستان بلوچستان میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ مہینوں کے دوران ایران کے جوہری تنازع پر عالمی طاقتوں سے بات چیت میں کامیابی کے بعد عالمی پابندیوں کے اثرات میں کمی آئی ہے لیکن امریکا نے بھی کہا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کے حل کا معاہدہ ہونے کے بعد ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیوں کو "مکمل طور پر" ختم ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم کے تعاون اور رہبر انقلاب اسلامی [آیت اللہ علی خامنہ ای] کے ارشادات کی روشنی میں عالمی پابندیوں کے خاتمے لیے پہلا قدم اٹھا لیا گیا اور ہم نے بعض ظالمانہ پابندیوں کو ختم کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آئندہ چند مہینوں میں پابندیوں کا مکمل خاتمہ کر دیں گے۔

پاکستان سے متصل پسماندہ اور شورش زدہ صوبہ سیستان بلوچستان کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ حکومت شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ آج ہم بعض پابندیوں کے اثرات دیکھ رہے ہیں ان کا اشارہ ملک کی خراب معاشی صورت حال کی جانب تھا، جس سے نکلنے کے لیے موجودہ حکومت نے گروپ چھ کے ساتھ جوہری تنازع کے حل کی ڈیل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں