مصر کے سابق وزیرخزانہ کی فرانس میں گرفتاری اور رہائی

کرپشن کے الزامات پر انٹرپول کی درخواست پر فرانسیسی پولیس نے پیرس آمد پر پکڑ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے سابق وزیرخزانہ یوسف بطروس غالی کو فرانس میں کرپشن کے الزامات پر گرفتاری کے چند گھنٹے کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

یوسف بطروس غالی سابق معزول صدر حسنی مبارک کے دور حکومت میں مصر کے وزیرخزانہ رہے تھے۔ان کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات پر بین الاقوامی وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔

فرانس کے عدالتی ذرائع کے مطابق یوسف بطروس غالی کو سوموار کو لندن سے پیرس آمد پر بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول کی درخواست پر پولیس نے گرفتار کیا تھا۔تاہم وہ برطانیہ میں ایک سیاسی پناہ گزین کی حیثیت سے رہ رہے ہیں،اس لیے انھیں جنیوا کنونشن کے تحت رہا کردیا گیا ہے کیونکہ اس کے تحت انھیں قید میں نہیں رکھا جاسکتا۔

ان کے پاس یورپ کا شینجن ویزا ہے۔اس پر وہ فرانس یا یورپی یونین کے ویزا فری علاقے میں کہیں بھی جاسکتے ہیں۔مصر کی ایک عدالت نے 2011ء میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد یوسف بطروس غالی کو کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں ان کی عدم موجودگی میں تیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

وہ اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بطروس بطروس غالی کے بھتیجے ہیں۔وہ حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد مصر سے بیرون ملک چلے گئے تھے۔وہ سابق صدر کے بیٹے جمال مبارک کے قریب سمجھے جانے والے اقتصادی پالیسی سازوں کے گروپ میں شامل تھے۔

یوسف بطروس غالی مبارک دور میں ملک کی معاشی پالیسیوں کے ذمے دار تھے اور انھیں عام مصریوں کو درپیش گوناگوں مسائل کا ذمے دار قراردیا گیا تھا جس کے نتیجے میں عوامی بغاوت نے جنم لیا تھا اور چند ہی ہفتوں میں سابق صدر کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں