.

خلیجی بحران حل کے لیے غیر معمولی وزارتی اجلاس

ریاض میں ہونے والے اجلاس کی کارروائی 'ان کیمرہ' ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے خصوصی ذرائع نے بتایا ہے کہ خلیج تعاون کونسل [جی سی سی] کے وزراء خارجہ کا ایک غیر معمولی اجلاس جمعرات کی شام سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں منعقد ہو رہا ہے جس میں قطر سے ریاض، منامہ اور ابوظہبی کے سفیروں کی واپسی سے پیدا ہونے والے بحران پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اجلاس کی کارروائی کو میڈیا کی چکا چوند سے دور رکھنے کے لیے اسے 'ان کیمرہ' قرار دیا گیا ہے۔ حالیہ پیش رفت تین ملکوں کی جانب سے قطر سے اپنے سفیروں کی واپسی کے فیصلے کے ایک ماہ بعد ہو رہی ہے۔

یاد رہے سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر کے ساتھ تنازعہ پیدا ہونے کے بعد دوحہ میں متعین اپنے سفراء کو واپس بلا لیا تھا۔ان تینوں ممالک نے یہ اقدام قطر کی جانب سے مصر کی اسلامی سیاسی جماعت اخوان المسلمون اور خطے کے دوسرے ممالک میں اس کی شاخوں کی مسلسل حمایت کے ردعمل میں کیا تھا اور کہا تھا کہ قطر علاقائی سکیورٹی معاہدے کی پاسداری میں ناکام رہا ہے، اس لیے اس کے ہاں متعین سفیروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

گذشتہ سال طے پائے اس معاہدے میں کہا گیا تھا کہ ''جی سی سی کے تمام رکن ممالک کسی دوسرے ملک کے داخلی امور میں براہ راست یا بالواسطہ کوئی مداخلت نہیں کریں گے اور وہ ایسی تنظیموں یا افراد کی حمایت بھی نہیں کریں گے جن سے جزیرہ نما عرب کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے ہوں۔خواہ یہ خطرات براہ راست سکیورٹی ورک یا سیاست پر اثرانداز ہونے سے متعلق ہوں''۔