.

لبنانی وینا ملک ھیفاء وہبی کی فلم مصر میں ممنوع

'حلاوہ الروح' میں انتہائی بولڈ مناظر شامل کئے گئے ہیں: حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی وینا ملک ھیفاء وہبی کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم 'حلاوہ الروح' یعنی روح کی مٹھاس کی مصری سینما گھروں میں نمائش پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مصری حکومت کا کہنا ہے کہ فلم میں لبنانی حسن کی دیوی نے جنسی جذبات ابھارنے والے انتہائی قابل اعتراض مناظر میں 'ادکاری' کے جوہر دکھائے ہیں جس کے باعث حلاوہ الروح کی مصر میں نمائش کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

دوسری جانب ھیفاء وہبی کا کہنا ہے کہ میری فلم عالم عرب کے دلوں کی آواز ہے اس کی نمائش پر پابندی قابل قبول نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ھیفاء وہبی کی فلم حلاوہ الروح تین اپریل کو ریلیز ہوئی تھی۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مینا' کے مطابق وہبی کی فلم ریلیز ہوتے ہی عرب ملکوں میں اس کے بعض قابل اعتراض مناظر کے باعث اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بدھ کو مصری وزیر اعظم انجینیر ابراہیم محلب نے اپنے ایک مختصر فیصلے میں متنازعہ فلم کی مصر میں نمائش یہ کہہ کر روک دی تھی کہ اس فلم میں قابل اعتراض مناظر شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں موجود قابل اعتراض سین ختم کیے جانے کے بعد اسے مصر میں دکھایا جا سکتا ہے۔

مصری وزیر اعظم کے فیصلے پر فلم کے پروڈیوسر محمد السبکی نے اخبار "الوطن" کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی تیار کردہ فلم پر متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر میں پابندی عاید نہیں اور نہ ہی اس کے مصری سینماؤں میں دکھائے جانے پر کوئی پابندی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے باضابطہ طور پر مصری حکومت کے فیصلے کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے اور میں قاہرہ حکومت کے تمام اعتراضات دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات کروں گا۔ انہوں نے کہا فلم کی مصر میں پابندی سے متعلق بہت سے باتیں افواہیں ہیں، جن میں حقیقت نہیں تاہم وہ ان افواہوں کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ادھر دوسری جانب ھیفاء نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم میں کوئی قابل اعتراض سین نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حلاوہ الروح میں میں نے جو کردار ادا کیا ہے وہ میری سابقہ فلم"دکان الشحاتۃ" سے بالکل مختلف ہے۔ یہ فلم دیکھنے والی ہے کیونکہ میں نے اس فلم میں مصری عورت کو درپیش مختلف حالات کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ھیفاء وہبی کا کہنا تھا کہ فلم عالم عرب کے دلوں کی آواز ہے۔ فلم کے مناظر کے بجائے یہ دیکھا جائے کہ میں نے خواتین کی مظلومیت کو کس 'اچھوتے' انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں پوچھتی ہوں کہ عرب ممالک میں ایسی کتنی خواتین ہیں جسمانی اور روحانی طور پر تباہ و برباد ہوئی ہیں۔