.

پاپ گلوکارہ کی قاہرہ میں ایرانی سفارت خانے میں دعوت

تہران سرکار نئی مشکل میں گرفتار ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے قدامت پسند حلقے صدر ڈاکٹرحسن روحانی کی بعض اعتدال پسند پالیسیوں سے پہلے ہی سخت نالاں ہیں۔ مصر میں ایرانی سفارت خانے میں منعقدہ عید نوروز کی تقریب میں ایک پاپ گلوکارہ کی متنازع شرکت نے تہران سرکار کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران و ترک نژاد امریکی اداکارہ آلبا کلیرڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ حال ہی میں قاہرہ میں متعین ایرانی سفیر مجتبیٰ امانی نے انہیں عید نوروز کی مناسبت سے ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کے لیے سندیسہ بھیجا تھا۔ اس نے نہ صرف تقریب میں شرکت کی بلکہ ایرانی سفیر مجتبیٰ امانی کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ اس موقع پر اس کا نہایت گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔

آلبا کلیرڈ نے مجبتی امانی کے ساتھ لی گئی تصاویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی پوسٹ کی ہیں اور کہا ہے کہ یہ تصاویر "نوروز" کی تقریب کے دوران لی گئی تھیں۔

مصری میڈیا کے مطابق آلبا کلیرڈ بیک وقت ترک اور ایرانی نژاد ہونے کے ساتھ امریکا کی شہریت رکھتی ہیں اور مصری عربی لہجے میں گلوکاری کرتی ہیں۔

فرانس ٹی وی 24 کے نامہ نگار امید حبیبیان کا کہنا ہے کہ البا کے فیس بک پر دعوے کے بعد اس نے قاہرہ میں ایرانی سفارت خانے سے رابطہ کیا اور اس ملاقات کی تصدیق چاہی۔ تاہم سفارت خانے نے گلوکارہ کی شناخت سے معذرت کی البتہ انہوں نے کسی غیر ملکی اداکارہ کی نوروز میں شرکت کی تردید بھی نہیں کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نوروز کی تقریبات میں کسی بھی ایسے شخص کو مدعو کیا جا سکتا ہے جس کا والد یا والدہ ایرانی رہے ہوں اور اس کا نام ہمارے ریکارڈ میں موجود ہو۔

خیال رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں سرکاری تقریبات میں خواتین کی شرکت پر پابندی نہیں مگر اندرون یا بیرون ملک ایرانی سفارت خانوں میں تقریبات یا ملاقاتوں کے دوران خواتین کے حجاب کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔

ایران کی کسی سرکاری تقریب میں شریک غیرملکی خواتین کو بھی معقول لباس کے بغیر شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی۔ لیکن البا کلیرڈ نے مجتبیٰ امانی کے ساتھ لی گئی جو تصاویر پوسٹ کی ہیں وہ ایرانی روایات کے برعکس ہیں اور اس پر انہیں سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔