اسد حکومت کی مخالفین کو بھوک سے جھکانے کی پالیسی

شامی باغیوں پر بھی شہریوں میں امدادی خوراک کی تقسیم میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی صدر بشارالاسد کی حکومت باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے بھوک مسلط کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس نے ان علاقوں تک خوراک کی فراہمی میں کمی کردی ہے۔

اس بات کا انکشاف امریکی جریدے ''فارن پالیسی'' میں جمعہ کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں کیا گیا ہے۔اس مضمون میں اقوام متحدہ کی دستاویزات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسد حکومت نے باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں خوراک کی سپلائی منقطع کر دی ہے اور وہ ان علاقوں میں زندگی برقرار رکھنے کے لیے ایک قابل اعتماد ذریعہ بن چکی ہے۔

بشارالاسد حکومت کی اس پالیسی کے پیش نظر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کو ضرورت مند شامی عوام کے لیے مزید خوراک مہیا کرنا پڑی ہے۔باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں سے بھوک کا شکار ہونے والے شامی بڑی تعداد میں حکومت کے کنٹرول والے علاقوں کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں۔اس لیے ان علاقوں میں خوراک کی تقسیم میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے بعد دوماہ کے دوران خوراک کی تقسیم میں کامیابی حاصل کی ہے اور اس کے بعد سے قریباً چار لاکھ پندرہ ہزار افراد تک خوراک پہنچائی گئی ہے۔

عالمی خوراک پروگرام نے مارچ میں حاجت مند اکتالیس لاکھ شامیوں کو خوراک مہیا کی تھی جبکہ فروری میں سینتیس لاکھ لوگوں تک خوراک پہنچائی گئی تھی لیکن خارجہ پالیسی میگزین کا کہنا ہے کہ بہت سے شامی اب بھی خوراک سے محروم ہیں اور کم سے کم ترانوے لاکھ شامیوں کو خوراک کی فوری امداد کی ضرورت ہے۔

شامی حزب اختلاف نے اسد حکومت پر باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں خوراک کو پہنچنے سے روکنے کا الزام عاید کیا ہے لیکن اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق اسد رجیم تنہا وہاں خوراک کی عدم تقسیم کی ذمے دار نہیں ہے بلکہ گذشتہ سال جون سے فروری کے دوران باغیوں کے درمیان باہمی لڑائیوں کے نتیجے میں ان کے زیر قبضہ علاقوں میں عالمی اداروں کی جانب سے خوراک کی تقسیم میں کمی واقعی ہوئی تھی۔

مشرق وسطیٰ کے علاقے میں ڈبلیو ایف پی کی ترجمان عبیر عتفا کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں نے ہی عوام تک امدادی خوراک کو پہنچنے سے روکا ہے۔انھوں نے بتایا کہ باغیوں کے زیر قبضہ دیر الزور اور الرقہ کے شمال مشرقی علاقوں میں ڈبلیو ایف پی کو خوراک کی تقسیم سے روکا گیا ہے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی الاخضر الابراہیمی نے شامی تنازعے کے دونوں فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی جانب لوٹ آئیں۔انھوں نے وسطی شہر حمص میں باغیوں اور شامی فوج کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں