اٹھارہ سالہ برطانوی شام میں ہلاک

400 برطانوی شہری شام میں لڑنے کیلیے موجود ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی نو عمر شہری شام میں جاری خانہ جنگی میں لقمہ اجل بن گیا ہے۔ نوعمر عبداللہ کی رواں ماہ کے دوران کن حالات میں ہلاکت ہوئی ہے اس بارے میں فی الحال کچھ واضح نہیں ہے۔ عبداللہ کا چحا اس سے پہلے گوانتا نامو بے میں اسیر رہا ہے۔

اٹھارہ سالہ عبداللہ کا انگلینڈ کے جنوب مشرقی علاقے برائیٹون سے تعلق بتایا گیا ہے۔ اس کا چچا عمر 2002 سے 2007 کے دوران گوانتانامو میں امریکی قیدی رہ چکا ہے۔ عبداللہ کے چچا کو مبینہ طور پر پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

عبداللہ کے خاندان نے اس کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ تاہم انہیں نے اس بارے میں لاعلمی ظاہر کی ہے کہ عبداللہ شام چلا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ''ہم اس برطانوی کی ہلاکت سے آگاہ ہیں اور اس معاملے کو سرعت سے دیکھ رہے ہیں۔''

عبداللہ کی فیس بک پر سرگرمیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ برائیٹون یونیورسٹی کا طالبعلم تھا۔ پچھلے دو برسوں کے دوران بشار رجیم کیخلاف لڑنے کیلیے 400 برطانوی شام جا چکے ہیں۔ برطانوی حکام کا خیال ہے کہ ان میں سے کم از 20 لوگ مارے جا چکے ہیں۔

برطانیہ کی انٹیلی جنس سے متعلقہ حکام اس بات پر تشویش ظاہر کرتے ہیں کہ اس صورت حال میں جہادی عسکری تربیت کے ساتھ شام سے واپس آ سکتے ہیں۔ جس سے برطانیہ میں بد امنی کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں