.

بغداد اور دوسرے شہروں میں بم دھماکے،14 افراد ہلاک

عراقی دارالحکومت میں جامعہ امام کاظم کے باہر خودکش بم حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں اتوار کو ایک جامعہ اور دوسرے شہروں میں بم دھماکوں کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بغداد کے شمال میں واقع جامعہ امام کاظم میں خودکش بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے۔اس واقعہ کے بارے میں عراقی حکام نے مختلف اطلاعات فراہم کی ہیں۔ایک پولیس کرنل نے بتایا ہے کہ ایک خودکش بمبار نے جامعہ میں داخل ہوکر دھماکا کیا ہے اور سکیورٹی فورسز نے ایک اور بمبار اور ایک مسلح حملہ آور کو ہلاک کردیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک عہدے دار کہنا ہے کہ بم دھماکا جامعہ کے داخلی دروازے پر ہوا ہے جبکہ ایک خودکش بمبار کو گولی سے اڑا دیا گیا ہے۔بغداد کے جنوب میں واقع صوبہ بابل میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔ایک اور جنوبی صوبے مثنیٰ کے قصبے الرمیثہ میں دوکاربماکوں میں تین افراد ہلاک اور چھبیس زخمی ہوئے ہیں۔

عراقی دارالحکومت کے شمال میں واقع قصبے سعدیہ میں ایک گاڑی کے ساتھ چپکائے گئے مقناطیسی بم کے نتیجے میں ایک فوجی کرنل مارا گیا ہے۔شمالی شہر موصل کے نزدیک ایک چیک پوائنٹ پر مسلح افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہوگئے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن اس سے پہلے القاعدہ سے وابستہ جنگجو تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (داعش) پر اس طرح کے حملوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔عراق میں تشدد کے یہ واقعات پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ سے صرف دس روز قبل پیش آئے ہیں۔جنگ زدہ ملک میں دسمبر 2011ء میں امریکی فوج کے انخلاء کے بعد یہ پہلے پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔

عراق میں اس سال کے آغاز کے بعد تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب تک ان واقعات میں ستائیس سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔اپریل میں اب تک بم دھماکوں ،جھڑپوں اور فائرنگ کے واقعات میں چار سو ستر افراد مارے گئے ہیں۔

ادھر مغربی صوبے الانبار میں داعش کے مسلح جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مسلسل کشیدگی پائی جارہی ہے۔ داعش کے جنگجوؤں نے اس صوبے کے دو بڑے شہروں رمادی اور فلوجہ میں گذشتہ تین ماہ سے اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کررکھا ہے اور عراقی فورسز ان دونوں شہروں کا کنٹرول واپس لینے کے لیے ان سے جنگ آزما ہیں۔عراقی فوج نے اگلے روز رمادی پر کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم اس شہر پر حکومت کی اب تک مکمل عمل داری قائم نہیں ہوسکی ہے۔