.

شام: صدارتی انتخاب 3 جون کو کرانے کا اعلان

اپوزیشن ایسے کسی انتخاب کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی کے باوجود بشار رجیم نے 3 جون کو نئے صدارتی انتخاب کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس خانہ جنگی کی وجہ سے ایک لاکھ پچاس ہزار شامی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ لاکھوں اہل شام پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

بشار رجیم جس نے اپنے ہی عوام پر بمباری کو معمول بنا رکھا ہے اور بھوک کو اپنے شہریوں کیخلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ان حالات میں شام کی متحدہ اپوزیشن ایسے کسی انتخاب کو قبول کرنے کو تیار نہیں جس کا مقصد بشارالاسد یا اس کی ٹیم کو ایک مرتبہ پھر شام پر مسلط کرنا ہو۔ تاہم فوری طور اپوزیشن کا شام کے سایسی مستقبل کے تعین کیلیے جنیوا میں ہونے والی دوسری امن کانفرنس ناکام ہونے کے بعد بشار رجیم نے ایک مرتبہ پھر پوری قوت سے مخالفین کو کچلنے کی حکمت عملی اپنا لی ، اس وجہ سے اسی مرتبہ پھر بشار رجیم پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔

لیکن پیر کے روز شامی پارلیمان کے سپیکر نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران باضابطہ اعلان کر دیا ہے کہ اگلے صدارتی انتخابات 3 جون کو ہوں گے۔ سپیکر نے صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کے وقت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ صبح سات بجے سے شام سات بجے تک جاری رہے گی۔ فوری طور پر متحدہ اپوزیشن اتحاد کی طرف سے مجوزہ انتخاب پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔