.

یمن: ڈرون حملوں میں 40 القاعدہ ارکان ہلاک

ہفتے اور اتوار کے روز پے در پے ڈرون حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں امریکا نے پے درپے متعدد ڈرون حملے کر کے القاعدہ کے 40 مبینہ ارکان کو ہلاک کر دیا ہے۔ یمن کی وزارت دفاع کے ذرئع کا کہنا ہے القاعدہ کے عسکریت پسند شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہے تھے کہ انہیں اس سے پہلے ہی نشانہ بنا ڈالا گیا۔

وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق حالیہ ڈرون حملہ یمن کے جنوبی علاقے کے دور افتادہ پہاڑوں میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ہفتے کے روز امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ ارکان کو دوران سفر نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس موقع پر القاعدہ ارکان کے علاوہ نزدیک سے گذرنے والی سویلینز کی ایک گاڑی بھی زد میں آ گئی تھی۔ اس حملے میں تین عام شہری بھی جاں بحق ہو گئے تھے۔

اتوار کی رات صوبہ شابوا میں امریکی ڈرون طیاروں نے القاعدہ کی ایک اور گاڑی کو نشانہ بنایا، جس سے پانچ مزید ہلاک ہو گئے تھے۔ یوں امریکی میزائل حملوں سے القاعدہ کو کامیابی سے مسلسل دو دن نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس خطے میں امریکی ڈرونز کا استعمال آ ئندہ دنوں استعمال بڑھنے کی نشان دہی ہوتی ہے۔

واضح رہے اس سے پہلے امریکی سی آئی اے اور پینٹاگان نے اپنے ڈرون حملوں کیلیے پاکستان میں القاعدہ کو ہدف بنا رکھا تھا۔ جہاں اب ڈرون کارروائیاں کچھ ماہ سے معطل نظر آتی ہیں۔ البتہ یمن میں ڈرون حملوں کی رفتار بڑھتی نظر آ رہی ہے۔

یمن کے مقامی قبائل کا کہنا ہے کہ ڈرونز سے تازہ نشانہ بنائے گئے علاقوں سے اب تک 25 لاشیں منتقل کی جا چکی ہیں۔ قبائل کے مطابق اتوار کی صبح ہونے والے ڈرون حملے تین مختلف جگہوں پر کیے گئے تھے اور ہر جگہ القاعدہ کے کیمپ نشانہ بنے ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ڈرون حملوں میں مارے جانے القاعدہ کے کئی اہم لوگوں کے علاوہ مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند شال ہیں۔ خیال رہے جزیرہ نما عرب میں یمن القاعدہ کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یمن میں اس سے پہلے ہونے والے ڈرون حملوں سے القاعدہ کے کئی نمایاں افراد نشانہ بن چکے ہیں جن میں امریکی شہری انور الاولاکی بھی شامل ہے۔