اقوام متحدہ نے شام میں صدارتی انتخاب کی مخالفت کردی

موجودہ حالات میں انتخابات کے انعقاد سے سیاسی عمل کو نقصان پہنچے گا:بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ نے خانہ جنگی کا شکار شام میں اسد حکومت کی جانب سے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 3 جون کو صدارتی انتخابات کے انعقاد کی مخالفت کردی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون اور شام کے لیے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے موجود خراب حالات میں صدارتی انتخابات پر خبردار کیا ہے۔اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹفین ڈوجارک نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں انتخابات کے انعقاد سے سیاسی عمل کو نقصان پہنچے گا اور بحران کے سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوجائیں گی۔

ترجمان نے کہا کہ ''ایسے انتخابات جنیوا اعلامیے کی روح کے منافی ہیں''۔وہ جنیوا میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان طے پائے اعلامیے کا حوالہ دے رہے تھے جس میں متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل اور ملک میں جمہوری انتقال اقتدار کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے۔

شامی پارلیمان (عوامی کونسل) کے اسپیکر نے دوروز پہلے تین جون کو آیندہ صدارتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ان میں حصہ لینے والے ممکنہ صدارتی امیدواروں کی رجسٹریشن کا 21 اپریل سے آغاز ہوچکا ہے۔

بشارالاسد کی موجودہ صدارتی مدت 17 جولائی کو ختم ہو گی۔وہ ان صدارتی انتخاب میں بھی مضبوط امیدوار ہوں گے اور توقع ہے کہ وہ کسی اور موثر امیدوار کی عدم موجودگی میں بآسانی سات سال کے لیے دوبارہ ملک کے صدر منتخب ہو جائیں گے۔

الاخضر الابراہیمی کا کہنا ہے کہ اگر بشارالاسد دوبارہ صدر منتخب ہوگئے تو حزب اختلاف مذاکرات کی میز پر آنے سے انکار کردے گی۔دمشق حکومت نے ان کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کررہے ہیں۔

شامی حزب اختلاف نے ان انتخابات کو ڈھونگ قراردے کر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے اور عالمی برادری ان کے نتائج کو مسترد کردے گی۔حزب اختلاف نے حکومت کے ساتھ مزید بات چیت اور تین سال سے جاری بحران کے حل کے لیے کسی حتمی معاہدے سے قبل بشارالاسد کی رخصتی کی شرط عاید کررکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں