القاعدہ کے بارودی شعبے کے سربراہ ابراہیم العسیری ہلاک

ہلاکت دوران سفر فورسز کے ساتھ تصادم کے دوران ہوئی: عینی شاہدین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

القاعدہ کے بم سازی کے شعبے کے سربراہ 32 سالہ ابراہیم العسیری یمن میں سفر کرتے ہوئے ساتھیوں سمیت سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک تصادم کے دوران یمن میں ہلاک ہو گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یمن میں القاعدہ ارکان کی فور بائی فور گاڑی میں دوسروں کے علاوہ العسیری بھی سوار تھا کہ ان کی سکیورٹی فورسز سے مڈ بھیڑ ہو گئی۔ اس دوران گاڑی پر سوار سب عسکریت پسند مارے گئے۔

سکیورٹی سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر العسیری کی موت کی تصدیق ہو گئی تو پاکستان میں مئی 2011 کے دوران اسامہ بن لادن کے خلاف کامیاب امریکی کمانڈو کارروائی کے بعد امریکا ملنے والی یہ دوسری اہم کامیابی ہو گی۔

العسیری کے بارے میں کہا جاتا ہے القاعدہ کی کارروائیوں کو موثر بنانے کیلیے دور تک مار کرنے والے بارود کی تیاری میں اس کا بہت اہم کردار تھا۔ العسیری مائع شکل میں تباہ کن مواد کی تیاری کا بھی یر معمولی ماہر تھا۔

اس القاعدہ کے رہنما جدید بم سازی اور نئے بارود کی تیاری کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس نئے بارود کا پتہ چلانا مشکل تھا جس سے عسکریت پسندوں کو اپنی کارروائیوں میں آسانی ہو جاتی رہی۔ العسیری امریکا کو انتہائی مطلوب افراد میں شامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں