نوے فیصد گمراہ عناصر کی شدت پسندی سے توبہ: شہزادہ نائف

انسدادِ دہشت گردی کی دوسری عالمی کانفرنس مدینہ منورہ میں شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف نے دعویٰ کیا ہے کہ مملکت میں گمراہ خیالات اور تشدد کی طرف رجحان رکھنے والے 90 فی صد شدت پسندوں نے اپنے خیالات سے توبہ کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے بھٹکے ہوئے لوگوں کی اصلاح کے لیے مختلف ناصحانہ پروگرامات ترتیب دے رکھے ہیں، جن کے ذریعے نظریات کوتشدد کے بجائے تعلیم اور افکار سے تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شہزادہ محمد بن نائف نے ان خیالات کا اظہار ریاض میں انسداد دہشت گردی سے متعلق دوسری عالمی کانفرنس کی تیاریوں سے ضمن میں ہونے والی ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ یہ کانفرنس "دہشت گردی کی فکری تبدیلی اور اس کا سائنسی حل " کے عنوان سے اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ کے زیر اہتمام آج ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت حکمت اور تدبر کے ساتھ حقائق سامنے لاتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے اور گمراہ خیالات کو تبدیل کرنے کے لیے تمام کوشیں بروئے کار لا رہی ہے۔ تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں شدت پسندی کی طرف میلان رکھنے والوں کو قومی دھارے میں لایا جا سکے۔

سعودی وزیر داخلہ شہزادہ نائف نے کہا کہ ہم نے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے دہشت گردی کی روک تھام میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر شہری سیکیورٹی اداروں کا ساتھ نہ دیں تو دہشت گردی کو شکست دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ ان کا ملک شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی قیادت میں اسلام کے صحیح عقیدے کی تشہیر کے ساتھ ایسے گمراہ کن اور منافی اسلام خیالات کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا جو عوام اور مسلمانوں میں فتنہ و فساد پیدا کرتے اور دین و وطن کی تضحیک کا باعث بنتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں