.

اسرائیل: مسیحیوں کی لازمی فوجی خدمات کیلیے حوصلہ افزائی

پہلے مرحلے پر مسیحی لڑکوں کو اور پھر لڑکیوں کو لیا جائیگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے فوجی حکام نے فوج میں عرب مسیحیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے سے یہ اظہار ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے سفیر سمیت بعض یورپی ملکوں کے سفیروں اور عرب مسیحیوں کی بڑی تعداد کو ایسٹر سے ایک روز پہلے قدیمی چرچ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا اور اس پر عرب مسیحی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک میں بھی ناراضگی کی لہر سامنے آئی تھی۔

مسیحی عرب بالعموم اکثریتی فلسطینی مسلمانوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ اسرائیل میں ان کی آبادی یہودی آبادی کے مقابلے میں تقریبا دو فیصد بنتی ہے۔ واضح رہے مسیحیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ ساٹھ ہزار ہے جبکہ اس کے مقابلے میں یہودی آبادی 80 لاکھ کے قریب ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک سینئیر فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل عامر حئی نے ٹیلی فون پر رپورٹرز کو دی گئی ایک بریفنگ کے دوران کہا '' ہم مسیحیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ سترہ سے اٹھارہ سال کے نوجوان لازمی فوجی خدمات کیلیے اپنے آپ کو رضاکارانہ بنیادوں پر پیش کریں۔

واضح رہے اسرائیل کے لیے یہ معاملہ بھی ایک چیلنج کی صورت میں موجود ہے کہ مسیحی عرب فلسطین کی آزادی کے ایشو پر فلسطینی مسلمانوں کے ہمنوا ہیں۔ مسلمان آبادی سرکاری دعوے کے مطابق مجموعی اسرائیلی آبادی کا بیس فیصد ہے اور مسلمانوں کو لازمی فوجی خدمات ادا کرنے سے چھوٹ دی گئی ہے۔

اسرائیلی فوجی افسر نے کہا فوج کے تمام رینکس بشمول اہم ترین سمجھے جانے والے ایلیٹ یونٹس میں بھی مسیحی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہیں اس وقت ان ذمہ داریوں پر رکھا جائے گا جب تک وہ ان کے لیے موزوں رہیں گے۔ مزید یہ بھی کہا فی الحال صرف مسیحی لڑکوں کو لازمی بھرتی کیلیے بلایا جائے گا اور بعد ازاں مسیحی لڑکیوں کو بھی خوش آمدید کہا جائیگا۔

اسرائیلی مذہبی پیشوا جبرائیل نادف نے اسرائیل کے فوجی ریڈیو پر اسرائیل کی جانب سے اس اقدام کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا کہ مسیحی عوام کو اسرائیلی سماج کا رکن بنایا جا رہا ہے اور انہیں حقوق و فرائض کے حوالے سے یکساں دیکھا جا رہا ہے۔

اسرائیل میں یہودی لڑکوں اور لرکیوں کو لازمی فوجی خدمات کیلیے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ یہودی لڑکوں کیلیے تین سال کیلیے جبکہ یہودی لڑکیوں کیلیے دو سال کی لازمی فوجی سروس لازمی ہوتی ہے۔ البتہ رجعت پسند یہودیوں کو اس لازمی فوجی خدمات سے استثنا دیا گیا ہے۔