.

فلسطینی دھڑوں میں باہمی اختلافات ختم ہوگئے: حماس

5 ہفتے میں مشترکہ عبوری حکومت کے قیام اور7 ماہ میں عام انتخابات کرانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں متحارب فلسطینی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنئیہ نے نوید دی ہے کہ ان کے باہمی اختلافات ختم ہوگئے ہیں اور ان میں ایک مفاہمتی سمجھوتے پر اتفاق رائے طے پا گیا ہے۔

غزہ کی پٹی میں حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنئیہ نے بدھ کو ایک نشری تقریر میں فلسطینیوں کے درمیان اختلافات کے خاتمے کی خوش خبری سنائی ہے اور کہا ہے کہ آیندہ سات ماہ کے دوران عام انتخابات ہوں گے۔انھوں نے بتایا کہ فتح اور حماس کے درمیان مفاہمتی سمجھوتے کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے گذشتہ روز حماس کی قیادت سے مذاکرات کے لیے فتح کا اعلیٰ سطح کا وفد غزہ بھیجا تھا۔اس وفد کے ایک رکن باسم صالحی نے بتایا ہے کہ مجوزہ سمجھوتے کے تحت آیندہ پانچ ہفتوں کے دوران ایک مشترکہ عبوری حکومت قائم کی جائے گی اور اس کے چھے ماہ کے بعد عام انتخابات ہوں گے۔

واضح رہے کہ قبل ازیں مصر نے 2011ء میں ان دونوں جماعتوں کے درمیان ایک مصالحتی معاہدہ کرایا تھا جس کے تحت دونوں جماعتوں نے آزاد ماہرین پر مشتمل نگران حکومت کے قیام اور فلسطینی علاقوں میں نئے صدارتی ،پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات کرانے سے اتفاق کیا تھا لیکن اب تک اس معاہدے پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی ہے۔

اسرائیلی ردعمل

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطینی صدر محمود عباس کو حماس کے ساتھ مصالحتی مذاکرات پر خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں اسرائیل اور اس کی دشمن جماعت حماس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

نیتن یاہو نے غزہ میں فلسطینی جماعتوں کے درمیان مصالحتی سمجھوتے کی خبر منظرعام پر آنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''کیا محمود عباس حماس کے ساتھ امن چاہتے ہیں یا اسرائیل کے ساتھ؟ان کو کسی ایک کو رکھنا ہوگا اور مجھے امید ہے کہ وہ امن کا انتخاب کریں گے لیکن ابھی تک انھوں نے ایسا نہیں کیا''۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیر خارجہ ایویگڈور لائبرمین نے وزیراعظم کے اس انتباہ کو کافی نہیں سمجھا اور کہا ہے کہ محمود عباس نے اگر حماس کے ساتھ قومی اتحاد کے معاہدے پر دستخط کیے تو یہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مذاکرات کی منسوخی پر دستخط ہوں گے۔مسٹر لائبرمین نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور یہ کہنا بھی ضروری خیال کیا ہے کہ محمود عباس حماس اور اسرائیل میں سے کسی ایک کے ساتھ ہی امن قائم کرسکتے ہیں۔

فلسطینی صدر کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے اسرائیلیوں کی اس غوغا آرائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے درمیان اتحاد ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔محمود عباس نے امن اور فلسطینی عوام کے اتحاد کا انتخاب کیا ہے کیونکہ فلسطینیوں کے درمیان اتحاد سے امن کو تقویت ملے گی اور مصالحت اور مذاکرات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

حماس اور فتح کے درمیان مصالحتی بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں کے درمیان امن عمل کو 29 اپریل کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی جاری رکھنے کے لیے بات چیت ہورہی ہے۔