.

قاہرہ میں پولیس کا بریگیڈئیر جنرل ہلاک

رواں سال کے دوران تیسرے اعلی افسر کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک اور اعلی پولیس افسر بدھ کے روز بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ سکیورٹی حکام کی طرف سے تصدیقی بیان میں کہا گیا ہے کہ بریگیڈئِر جنرل احمد ذکی کو ان کی گاڑی کے ساتھ بم باندھ کر ہلاک کیا گیا ہے۔ رواں سال کے دوران پولیس کے مارے جانے والے یہ تیسرے اعلی افسر ہیں۔

پہلے متخب صدر محمد مرسی کو پچھلے سال ماہ جولائی میں فوج کے ہاتھوں برطرف کیے جانے اور 14 اگست کو رابعہ العدوایہ کے باہر مرسی کی بحالی کیلیے طویل دھرنے کے سختی سے کچلے جانے کے بعد پولیس مسلسل ایسی کارروائیوں کا نشانہ بن رہی ہے۔

بریگیڈئیر جنرل احمد ذکی جس طرح کی کارروائی میں مارے گئے ہیں قاہرہ میں اس نوعیت کی یہ پانچویں کارروائی ہے۔ ابھی چند روز پہلے پولیس کے ایک چیک پوائنٹ پر دھماکہ کر کے ایک اعلی افسر کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ دوسری جانب مرسی کے حامی جولائی 2013 سے مسلسل سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاون کی زد میں ہیں۔

اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے، 529 کارکنوں کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ سینکڑوں کارکن مارے جا چکے ہیں اور پندرہ ہزار سے زائد جیلو٘ں میں بند ہیں۔ اخوان المسلمون کے مرشد عام سمیت پوری مرکزی قیادت قتل کے مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔

اب تک پولیس کے خلاف قاہرہ میں کی گئی متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری اجناد مصر نامی گروپ قبول کرتا آیا ہے۔ یہ گروپ ملک میں اسلام پسندوں کے خلاف کارروائیوں کو جواز بناتا ہے۔ اس طرح کی کارروائیوں کی ذمہ داری انصار بیت المقدس نامی گروپ بھی قبول کرتا آیا ہے۔

واضح رہے مصر میں ان دنوں مساجد کی بھی باضابطہ نگرانی شروع کر دی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں مصر کا چہرہ زیادہ لبرل ہو سکتا ہے۔ لیکن ملک کے اسلام پسند طبقات اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں، ملک کی نظریاتی سمت کا 26 اور 27 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں تعین ہو جائے گا، تب تک ملک میں اس نوعیت کی کارروائیاں جاری رہنے کا خطرہ ہے۔