.

بشارالاسد کا ایک حریف صدارتی امیدوار سامنے آ گیا

حلب سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں 3 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ایک رکن پارلیمان نے بطور امیدوار اپنا نام رجسٹر کرا لیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے پارلیمان کے اسپیکر محمد جہاد اللحام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''رکن پارلیمان ماہر عبدالحفیظ حجار نے شامی عرب جمہوریہ کے صدر کا انتخاب لڑنے کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں اور ہمیں اعلیٰ آئینی عدالت کی جانب سے اس ضمن میں اطلاع دے دی گئی ہے''۔

اس نشریے کے مطابق ماہر حجار 1968ء میں شمالی شہر حجر میں پیدا ہوئے تھے اور وہ آزاد حیثیت میں رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے۔وہ پہلے صدارتی امیدوار ہیں جو متوقع صدارتی امیدوار اور موجودہ صدر بشارالاسد کے مقابلے میں سامنے آئے ہیں۔

بشارالاسد 2000ء میں اپنے والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد ملک کے صدر بنے تھے۔ان کی موجودہ صدارتی مدت 17 جولائی کو ختم ہو گی۔وہ ان صدارتی انتخابات میں بھی مضبوط امیدوار ہوں گے اور توقع ہے کہ وہ بآسانی سات سال کے لیے دوبارہ شام کے صدر منتخب ہو جائیں گے۔

شامی آئین میں ترامیم کے بعد یہ پہلے صدارتی انتخابات ہیں جن میں ایک سے زیادہ امیدوار میدان میں اتریں گے۔قبل ازیں ریفرینڈم نما انتخاب میں حکمراں بعث پارٹی کا ایک ہی صدارتی امیدوار ہوتا تھا اور وہ وہی بآسانی منتخب ہوجاتا تھا۔

بعث پارٹی گذشتہ پینتالیس سال سے شام میں حکمراں چلی آرہی ہے لیکن اب گذشتہ تین سال سے اس کے اقتدار کے خلاف مسلح عوامی بغاوت برپا ہے۔اس دوران خانہ جنگی کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہِیں اور شام کی نصف آبادی اندرون اور بیرون ملک مہاجر کیمپوں میں زندگی کے دن کاٹ رہی ہے۔

ترمیم شدہ انتخابی قوانین کے تحت صدارتی امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ گذشتہ ایک عشرے سے شام ہی میں مقیم ہوں۔اس طرح جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی شامی حزب اختلاف کی شخصیات کو اس قانون کے تحت صدارتی انتخاب کی دوڑ سے باہر کردیا گیا ہے۔

شامی حزب اختلاف نے ان انتخابات کو ڈھونگ قراردے کر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے اور عالمی برادری ان کے نتائج کو مسترد کردے گی۔حزب اختلاف نے حکومت کے ساتھ مزید بات چیت اور تین سال سے جاری بحران کے حل کے لیے کسی حتمی معاہدے سے قبل بشارالاسد کی رخصتی کی شرط عاید کررکھی ہے۔اقوام متحدہ نے بھی خانہ جنگی کا شکار شام میں اسد حکومت کی جانب سے صدارتی انتخابات کے انعقاد کی مخالفت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون اور شام کے لیے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے موجود خراب حالات میں صدارتی انتخابات پر خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے انعقاد سے سیاسی عمل کو نقصان پہنچے گا اور بحران کے سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوجائیں گی۔