.

لبنان:ارکان پارلیمان نئے صدر کے انتخاب میں ناکام

سابق وزیراعظم سعد حریری کے حمایت یافتہ سمیر جعجع صرف 48 ووٹ لے سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی پارلیمان کے ارکان ملک کے نئے صدر کے انتخاب میں ناکام رہے ہیں اور سرکردہ امیدوار سمیر جعجع مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کرسکے ہیں۔

لبنانی فورسز کے رہ نما سمیر جعجع مغرب کے حمایت یافتہ 14مارچ اتحاد کے امیدوار ہیں۔انھوں نے بدھ کو صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں اڑتالیس ووٹ حاصل کیے۔دروز لیڈر ولید جنبلاط کے پارلیمانی بلاک سے تعلق رکھنے والے امیدوار ہنری ہیلو کے حق میں سولہ ووٹ ڈالے گئے۔کتائب پارٹی کے لیڈر امین جمائل کو صرف ایک ووٹ ملا۔

پارلیمان کے ایک سو اٹھائیس میں سے باون ارکان نے کسی امیدوار کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا جبکہ سات ووٹوں کو کالعدم قراردے دیا گیا۔لبنانی آئین کے تحت صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں جیتنے کے لیے امیدوار کودوتہائی یعنی چھیاسی ووٹ لینا ضروری ہیں۔پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے اب اجلاس 30 اپریل تک ملتوی کردیا ہے۔

لبنانی آئین کے تحت ملک کے صدر کا تعلق میرونائٹ عیسائی مذہب سے ہوتا ہے۔موجودہ صدر میشال سلیمان کی چھے سالہ مدت 25 مئی کو ختم ہورہی ہے۔آئین کے تحت اس تاریخ سے قبل نئے صدر کا انتخاب ضروری ہے۔

اب صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں امیدوار سادہ اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوسکتا ہے اور اس کے لیے اسے 65 ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔اگر ارکان پارلیمان موجودہ صدر کی آئینی مدت کے خاتمے سے قبل نئے صدر کے انتخاب میں ناکام رہتے ہیں تو پھر صدارتی اختیارات عارضی طور پر کابینہ کو منتقل ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ لبنان میں فرقہ وارانہ بنیاد پر سیاسی دھڑوں میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے یہ اختلافات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے سمیر جعجع شامی صدر بشارالاسد کے شدید ناقد ہیں اور انھیں سابق وزیراعظم سعد حریری کے پارلیمانی بلاک کی حمایت حاصل تھی۔