.

"مُرسی کی برطرفی مصر کو انارکی سے بچانے کے لیے کی"

قبطی پادری کا تین جولائی کے فوجی اقدام کے دفاع میں بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے قبطی عیسائی پادری پوپ تواضروس دوم نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کے پہلے منتخب اسلام پسند صدر ڈاکٹرمحمد مرسی کے خلاف تیس جون 2013ء کو شروع ہونے والی عوامی بغاوت کی تحریک اور صدر کی معزولی میں مسیحی برادری نے بھی بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر کے خلاف عوامی بغاوت کے بعد ملک افراتفری کے عالم میں تھا، اس لیے اسے طوائف الملکوکی سے بچانے کے لیے انقلابیوں کا ساتھ دینا ضروری تھا۔

قبطی پادری توضروس دوم نے ان خیالات کا اظہار کینیڈین اخبار "جوڈ نیوز" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق صدر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی سے قبل ان سے بھی مشاورت کی گئی تھی اور انہوں نے صدر کو ہٹانے کی تجویز کی کھل کر حمایت کی تھی۔

تواضروس دوم نے مزید کہا کہ مصر کے طول وعرض میں سابق صدر کے خلاف عوامی غم وغصے کی لہر پھیل چکی تھی۔ آخر کار فوج نے حکومت کو پہلے ایک ہفتے اور پھر 48 گھنٹوں میں اصلاح احوال کا الٹی میٹم دیا۔ جب صدر محمد مرسی اور ان کی حکومت اصلاح احوال میں ناکام ہو گئی اور انہوں نے عوامی مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تو فوج نے اپنا 'فیصلہ' نافذ کر دیا۔ اس وقت عیسائی برادری، فوج اور انقلابی نوجوان ایک ہی قوت تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شیخ الازھر ڈاکٹر احمد الطیب نے بھی آخری وقت میں ہم سے صلاح مشورہ کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ ملک میں سخت بے چینی پائی جا رہی ہے جبکہ صدر مملکت عوامی مطالبات تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ ایسے میں جو فیصلہ مسلح افواج کریں گی اسے قبول کر لیا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فوج کی جانب سے صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کا اعلان نشر ہونے سے پانچ گھنٹے پہلے ہماری مشاورت شروع ہوئی۔ ہم لوگ حکومت کی معزولی کے بارے میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان کی تیاری میں مصروف رہے۔ اس دوران مختلف آراء سامنے آئیں لیکن اس امر پر اتفاق ہوا کہ ایک ایسا بیان جاری کیا جائے جس کے نتیجے میں ملک میں انارکی کی فضاء ختم ہو سکے۔ ہم نے مل کر ایک بیان تیار کیا۔ شیخ الازھر ڈاکٹر احمد الطیب نے اس کی نوک پلک ٹھیک کی، جس کے بعد اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا کہ مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی خود یہ بیان پڑھ کر سنائیں گے۔ اس بیان کے بعد ہم میں سے ہر ایک مختصر خطاب کرے گا۔

اخوان کی حکومت قبطیوں کے لیے خوف کا باعث

کینیڈین اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں پوپ تواضرس نے کہا کہ "عیسائی برادری کی جانب سے تین جولائی کے فوجی اقدام کی حمایت کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں کی گئی بلکہ صدر محمد مرسی کی معزولی کی حمایت ملک وقوم کے مفاد میں کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون کے دور حکومت میں قبطی اور دیگر اقلیتیں خوف میں متبلا تھیں، لیکن ہم اس کے باوجود پراُمید تھے۔ ہماری امیدیں بر لائیں اور پریشانی کا عرصہ زیادہ طویل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مصری شہری کی حیثیت سے میں کسی بھی عوامی مظاہرے میں شامل ہو سکتا ہوں لیکن دینی رہ نما کی حیثیت سے مجھ پر کچھ پابندیاں ہیں تاہم ملک وقوم کے مفاد میں ہونے والے فیصلوں کی مشاورت میں شامل ہوتا ہوں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں پوپ تواضروس نے کہا کہ پچیس جنوری 2011ء کو حسنی مبارک کے خلاف برپا انقلاب بھی عوامی تھا اور پوری قوم ان کے استبدادی نظام کے خاتمے پر متفق تھی لیکن میں وثوق سے کہتا ہوں کہ 25 جنوری کے انقلاب کو چوری کیا گیا اور انقلاب کے گھوڑے پر ایسے لوگ سوار ہو گئے جو قوم کے حقیقی نمائندہ نہیں تھے۔ میں نے اس موقع پر اسی مضمون کا ایک شعر بھی کہا تھا"۔

پوپ تواضروس دوم نے کہا کہ میں قبطی برادری کے لیے کسی ایک صدارتی امیدوار کی حمایت پر زور نہیں دوں گا۔ یہ ہر شہری کا اپنا ذاتی حق ہے کہ وہ جس امیدوار کی چاہے حمایت کرے۔ ہم نے منتخب صدر کا احترام کیا ہے۔ مصر میں عیسائی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے باوجود ان کی عبادت گاہیں محفوظ نہیں ہیں۔ قبطی اب بھی خوف کا شکار ہیں۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ موجودہ حکومت اپنے پیش روؤں کی نسبت قبطیوں کے مذہبی تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔