.

اسرائیل: فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امن مذاکرات معطل

مغربی کنارے میں فلسطینی حکومت پر صہیونی ریاست کی اقتصادی پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امن مذاکرات معطل کردیے ہیں اور مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کی سربراہی میں فلسطینی اتھارٹی کی حکومت پر اقتصادی پابندیاں عاید کردی ہیں۔

اسرائیل نے یہ اقدام محمود عباس کی قیادت میں تنظیم آزادی فلسطین اور غزہ کی حکمراں حماس کے درمیان مصالحتی معاہدے کے ایک روز بعد کیا ہے۔غزہ میں متحارب فلسطینی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد بدھ کو ایک مفاہمتی معاہدہ طے پایا تھا۔

اس کے تحت آیندہ پانچ ہفتوں میں غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں حماس ،فتح اور دوسری چھوٹی جماعتوں پر مشتمل ایک مشترکہ عبوری حکومت قائم کی جائے گی اور اس کے چھے ماہ کے بعد فلسطینی علاقوں میں عام انتخابات کرائے جائیں گے۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح اور حماس کے درمیان مصالحتی معاہدے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ امن کے بجائے اس کی دشمن جماعت حماس کے ساتھ امن کو ترجیح دی ہے۔

ان کے اس سخت ردعمل سے عیاں ہے اسرائیل فلسطینیوں کے درمیان اتحاد کا مخالف ہے اور صہیونی نہیں چاہتے کہ فلسطینی اکٹھے مل بیٹھیں۔انتہا پسند صہیونی ماضی میں بھی حماس اور فتح کی قیادت میں پی ایل او کے درمیان مصالحتی کوششوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

حماس اور فتح کے درمیان مصالحتی ایسے وقت میں قومی اتحاد کے لیے معاہدہ طے پایا ہے جب اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں کے درمیان امن عمل کو 29 اپریل کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی جاری رکھنے کے لیے بات چیت ہونے والی تھی لیکن اس کی اطلاع منظرعام پر آتے ہی اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں بدھ کی رات فلسطینی اتھارٹی کے مذاکرات کاروں کے ساتھ پہلے سے طے شدہ بات چیت منسوخ کردی تھی۔اس ملاقات میں امن عمل کو مذکورہ ڈیڈلائن کے بعد بھی جاری رکھنے کے حوالے سے غور کیا جانا تھا۔

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''مصالحتی معاہدے سے صدر محمود عباس کی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے لیے کوششوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اںھوں نے بتایا:''حماس کے ساتھ مفاہمت میں یہ بھی طے پایا ہے کہ صدر ہی کو تمام فلسطینی عوام کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا مینڈیٹ حاصل ہوگا۔