.

اسماء اسد کی دوہری شہریت شوہر کی سیاسی موت کا باعث؟

بشار الاسد رکاوٹ کے خاتمے کیلیے آئین میں ترمیم کرانا چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے تین جون کو صدارتی انتخابات کا اعلان کرتے ہی انتخابی معرکے میں حصہ لینے کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ مگر ذرائع بتاتے ہیں کہ صدر اسد کی اہلیہ اسماء الاخرس کی دوہری شہریت ان کے شوہر کے صدارتی انتخابات لڑنے میں قانونی رکاوٹ ہے۔

شامی حکومت کے ایک منحرف سفارت کار خالد الایوبی نے ترک خبر رساں ایجنسی اناطولیہ سے بذریعہ ٹیلی فون لندن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئینی طور پر بشار الاسد صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں کیونکہ ان کی بیوی کے پاس برطانیہ کی شہریت بھی ہے۔

سنہ 2012ء میں بشار الاسد کی حکومت سے الگ ہونے والے سفارت کار خالد الایوبی کا کہنا ہے کہ شام کے موجودہ آئین کے تحت کسی امیدوار کی اپنی اور اس کی اہلیہ کے پاس دوہری شہریت نہیں ہونی چاہیے۔ نیز امیدوار کا پچھلے دس سال سے اپنے ملک ہی میں مقیم پونا بھی ضروری ہے۔ جبکہ بشار الاسد کی اہلیہ اسماء کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے، جس کی بناء پر اس کے شوہر نامدار صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔ صدر اسد کا دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان کی اہلیہ کا دوسرے ملک کی شہریت ترک کرنا ضروری ہو گا۔

خیال رہے کہ اسماء الاخرس کے والدین شام سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اسماء کی اپنی پیدائش برطانیہ کی ہے۔ وہ سنہ 2000ء میں بشار الاسد سے شادی کے بعد شام منتقل ہوئی تھیں۔ اسماء سے بشار الاسد کے تین بچے ہیں۔

شامی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد آئین میں دوہری شہریت کے حامل امیدواروں کے صدارتی انتخابات میں شرکت پر پابندی سے متعلق قانون کو معطل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے گذشتہ ماہ مارچ میں بھی آئین کی بعض دفعات کو معطل کرنے کا اشارہ دیا جن میں دہری شہریت کے باعث انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کا ایکٹ 10مجریہ 1969ء میں ترمیم بھی شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ آئین کی رو سے شامی اپوزیشن کے کئی سرکردہ امیدوار بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر کے پاس دوسرے ممالک کی شہریت کے علاوہ وہ کئی سال سے دوسرے ملکوں میں قیام پذیر رہے ہیں۔

آئین کی اس شق کی پابندی کی دستور میں سزا بھی موجود ہے۔ اگر کوئی شخص دوہری شہریت یا کسی بھی دوسری قدغن کے باوجود انتخابات میں حصہ لیتا ہے تو اسے ایک سے تین ماہ قید یا پانچ ہزار لیرہ جرمانہ یا بیک وقت دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔