ترک جامعات بیدخل اخوانی طلبہ کو داخلہ دینے سے باز رہیں

ایردوآن کی اخوانیوں کے لئے حمایت قاہرہ کے خلاف اعلان جنگ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری جامعات سے اخوان المسلمون سے تعلق کے شبے میں نکالنے جانے والے طلبہ سے ترک جامعات میں تعلیم جاری رکھنے کی ترک پیشکش پر مصری حکومت نے انقرہ سے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے یہ پیشکش ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ دنوں کی تھی۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق مصری وزیر تعلیم ڈاکٹر وائل الدجوی نے قاہرہ میں 23 جامعات کے وائس چانسلرز کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم جماعت اخوان المسلمون سے تعلق، تعلیمی اداروں میں تخریبی کارروائیوں اور حکومت مخالف سرگرمیوں کے الزام میں جن اساتذہ اور طلبا کو جامعات سے نکالا گیا ہے ان کی ڈگریاں قابل قبول نہیں ہوں گی اور نہ ہی انہیں آئندہ کسی مصری تعلیمی ادارے میں داخلے کی اجازت ہو گی۔

انہوں نے ترک حکومت کو خبردار کیا کہ وہ اخوانی طلباء اور اساتذہ کو اپنی جامعات میں درس و تدریس کے مواقع فراہم کرنے سے باز رہے ورنہ اسے مصر کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت سمجھا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق ترک حکومت کے ایک ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے اخوان المسلمون سے تعلق کے شبے میں علمی اداروں اور جامعات سے فارغ طلباء کو اپنے ہاں تعلیم جاری رکھنے کی دعوت دی ہے اور انہیں ہر مُمکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔

درایں اثناء جامعہ الازھر کے چیئرمین ڈاکٹر اسامہ العبد نے بھی ترک وزیر اعظم کی طرف سے اخوانی طلباء اور اساتذہ کو اپنے ہاں تعلیمی اداروں میں داخلے کی دعوت دینے کی سخت مخالفت کی ہے۔ قاہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر العبد نے کہا کہ ترک حکومت کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنے ہاں پناہ دے کر مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔ استنبول نے اخوانی طلباء کو اپنی یونیورسٹیوں میں داخلے کی پیشکش نہیں کی بلکہ قاہرہ کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔

یاد رہے کہ مصر میں گذشتہ برس تین جولائی کو پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد اعتدال پسند جماعت اخوان المسلمون کے حامیوں کو چن چن کر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ محض شبے کی بنیاد پر جامعات سے طلباء کو نکالنے کے ساتھ ان پر مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ترک حکومت نے معتوب مصری طلباء کا سہارا بننے کی کوشش کی ہے جو قاہرہ کی فوجی سرکار کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہو رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں