.

حکومتی قید سے رہا خاتون شامی باغیوں نے گرفتار کر لی

یاسمین پر اسدی فوج کے لیے باغیوں کی مخبری کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں حال ہی میں عیسائی راھبات کے بدلے حکومتی قید سے رہائی پانے والی خاتون سماجی کارکن یاسمین بنشی کو ترکی فرار کی کوشش کے دوران تحریک احرار شام نامی ایک باغی گروپ نے یرغمال بنا لیا ہے۔ باغیوں نے یاسمین پر اسدی فوج کی ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا ہے تاہم دیگر انقلابی حلقے اس الزام کو بے بنیاد قرار دے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یاسمین کو چند ہفتے قبل شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان عیسائی راہبات کے بدلے میں رہا کرایا گیا تھا۔ رہائی کے بعد وہ اللاذقیہ میں مقیم تھی جہاں سے اس نے اپنی سہیلی رویدا کنعان کے ہمراہ ترکی کے لیے رخت سفر باندھا۔ بارہ اپریل کو وہ دونوں ترک سرحد کے قریب باب الھوی کے مقام پر پہنچیں تو انہیں تحریک احرار شام نامی گروپ کے جنگجوؤں نے حراست میں لے لیا۔ رویدا کنعان کو دو روز بعد چھوڑ دیا گیا لیکن یاسمین ابھی تک جنگجوؤں کی حراست میں ہے۔ تحریک احرار شام نے الزام عائد کیا ہے کہ یاسمین بشارالاسد کی فوج اور ان کے حامیوں کی ایجنٹ ہے۔

رویدا کنعان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ جب انہیں حراست میں لیا گیا تو وہ بہت خوف زدہ ہوئیں اور انہوں نے سمجھا کہ حراست میں لینے والے جنگجو القاعدہ کی حامی تنظیم داعش سے تعلق رکھتے ہیں لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ تحریک احرار شام کے قبضے میں ہیں تو انہیں اطمینان ہو گیا۔ اس نے کہا کہ ہماری گرفتاری کے بعد ایک جنگجو کمانڈر نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "بہن! اللہ کی قسم ہم داعش کے لوگ نہیں ہیں۔ ہم سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں"۔

ایک سوال کے جواب میں رویدا نے بتایا کہ حراست میں لیے جانے کے بعد ہمیں تنظیم کے امیر کے کمرے میں رکھا گیا، ہمیں بہترین کھانا، چائے اور بسکٹ پیش کیے گئے اور ہماری ضروریات پوری کرنے کے لیے نوجوانوں کی ذمہ داریاں لگائی گئی تھیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے احرار شام گروپ سے رابطہ کر کے یاسمین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم ان کی جانب سے صرف اتنا کہا گیا ہے کہ یاسمین کے معاملے کو نہایت شفافیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ مناسب وقت آنے پر اس سے ملاقات کرائی جائے گی۔

فرضی نام سے جنگ کی رپورٹنگ

یاسمین بنشی نے شام کے شہر اللاذقیہ میں حکومتی مظالم اور بشار الاسد کی فوج کی جانب سے شہریوں کے قتل عام کی 'قمر زمان' کے فرضی نام کے ساتھ رپورٹنگ شروع کی۔ وہ اپنے شہر اور ملک کے دوسرے علاقوں کے حالات سے نہ صرف میڈیا کو آگاہ کرتی رہی بلکہ اس کے براہ راست جیش الحر کے ساتھ بھی روابط تھے۔ یوں وہ شامی فوج کے بارے میں حساس معلومات بھی جیش الحر اور باغیوں تک پہنچاتی رہی۔ کئی بار العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی یاسمین سے رابطہ کر کے اللاذقیہ میں جاری جنگ کے بارے میں اہم معلومات حاصل کیں۔

انہی انقلابی سرگرمیوں پر سرکاری فوجیوں نے اسے حراست میں لیا۔ دوران حراست اس پر اقبال جرم اور باغیوں سے روابط ثابت کرنے کے لیے بہیمانہ تشدد بھی کیا گیا مگر اس نے سرکاری گماشتوں کے سامنے کوئی اعتراف نہیں کیا۔

اب وہ احرار شام نامی گروپ کی تحویل میں ہے۔ احرار شام اسلامک فرنٹ نامی تنظیم کا عسکری ونگ ہے اور اس کی شہرت اعتدال پسند شامی باغی گروپوں میں ہوتی ہے جو شہریوں کے معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنی توجہ سرکاری فوج پرحملوں پر مرکوز رکھتے ہیں۔

فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ احرار شام کی جانب سے یاسمین پر اسدی فوج کی ایجنٹ کا الزام کس حد تک درست ہے تاہم یاسمین کو جاننے والا کوئی بھی شخص یہ گواہی دینے کو تیار نہیں کہ وہ سرکاری فوج کی ایجنٹ رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے "انصار انقلاب" نامی گروپ کے ترجمان عمر جبلاوی سے رابطہ کرکے یاسمین کے بارے میں اس سے دریافت کیا۔ اس نے کہا کہ یاسمین کے ساتھ میرا کئی بار رابطہ ہوا۔ اس نے سرکاری فوج کے اہم عہدیداروں کے رابطے، فون نمبر اور دیگر حساس معلومات جیش الحر تک پہنچائیں۔ مجھے ذرا بھی شبہ نہیں کہ وہ سرکاری فوج کی ایجنٹ ہو سکتی ہے کیونکہ اس نے انقلاب کی خاطر ہمارے سامنے سخت تکلیفیں جھیلیں ہیں۔

احرار شام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یاسمین بنشی سے پوچھ کچھ کسی ابلاغی ادارے کی اس سے ملاقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ پیش آئند ایام میں "العربیہ" کی ٹیم کو بھی اس سے ملنے کی اجازت فراہم کر دی جائے گی۔