.

''ایران سے خطرہ:خلیجی ریاستیں جوہری صلاحیت حاصل کریں''

ہمیں جوہری مذاکرات کے کسی بھی نتیجے کے لیے تیار رہنا چاہیے:شہزادہ ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی شاہی خاندان کے سینیر رکن اور سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ خلیجی ریاستوں کو ایران سے توازن اور اس سے لاحق خطرے مقابلہ کرنے کے لیے جوہری جان کاری (صلاحیت) کے حصول کے لیے کام کرنا چاہیے۔

شہزادہ ترکی الفیصل بحرین کے دارالحکومت منامہ میں بدھ کو منعقدہ ایک سکیورٹی کانفرنس میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ خلیجی ریاستوں کو ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات کے کسی بھی ممکنہ نتیجے کے بارے میں تیار رہنا چاہیے۔

انھوں نے کہا:''ہماری ایران سے کوئی مخاصمت نہیں ہے اور ہم اس کو یا اس کے عوام کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔وہ ہمارے مسلم ہمسائے ہیں لیکن ہماری علاقائی سکیورٹی کی ضروریات کے مد نظر خلیج گروپ کو اس کے ساتھ طاقت کا حقیقی توازن قائم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔اس میں جوہری جان کاری بھی شامل ہے۔ہمیں ایران کی جوہری فائل کے تعلق سے کسی بھی امکان کے بارے میں تیار رہنا چاہیے۔اس توازن کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ایرانی قیادت ہمیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرے گی''۔

سعودی شہزادے نے کہا کہ ''خلیجی عرب ریاستوں کو ایران کے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کے باوجود اس کی جوہری خواہشات اور خلیجی عرب ہمسایوں کے داخلی امور میں مداخلت پر تشویش لاحق ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ایرانی قیادت کی دُہری باتوں اور دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے ہم اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔اب ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات کے نتیجے میں اس کی جوہری خواہشات پر قدغنیں لگ سکیں گے تو ہمیں جب تک یہ سب کچھ حقیقت کا روپ نہیں دھار لیتا ،محتاط رہنا چاہیے''۔

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل کے بھائی شہزادہ ترکی کا کہنا تھا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان کشیدگی سب سے بڑا خطرہ ہے۔علاقائی دشمن مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اس صورت حال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

وہ چھے رکنی خلیج تعاون کونسل مِیں شامل قطر ، سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان اخوان المسلمون کی حمایت اور مخالفت کی بنا پر پائی جانے والی کشیدگی کا حوالہ دے رہے تھے۔اگرچہ ان ممالک نے گذشتہ ہفتے سعودی دارالحکومت الریاض میں منعقدہ اجلاس میں ایک دوسرے کے داخلی امور میں عدم مداخلت کے معاہدے کی پاسداری کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے باوجود شہزادہ ترکی نے خبردار کیا ہے کہ ان میں موجود اختلافات سے دشمن ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ قطر کی جانب سے مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی حمایت کے بعد سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین نے دوحہ میں متعین اپنے سفیروں کو 5 مارچ کو واپس بلا لیا تھا۔جی سی سی کے وزرائے خارجہ نے 17 اپریل کو الریاض میں منعقدہ اپنے اجلاس میں گذشتہ سال طے پائے سکیورٹی معاہدے پر عمل درآمد سے اتفاق کیا تھا لیکن انھوں نے مذکورہ تین ممالک کے سفراء کی دوحہ واپسی کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔

درایں اثناء قطری وزیرخارجہ خالد العطیہ نے بدھ کو کویت کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ تین ممالک کے ساتھ ان کی کشیدگی ختم ہوچکی ہے اور اب ان ممالک کی اپنی اپنی صوابدید ہے کہ وہ کب اپنے سفیروں کو واپس دوحہ بھیجتے ہیں۔