بغداد:انتخابی ریلی میں دو بم دھماکے،28 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے دارالحکومت بغداد میں اہل تشیع کی ایک سیاسی جماعت کی انتخابی ریلی میں جمعہ کو دو بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں اٹھائیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی پولیس کے ایک کرنل اور میڈیکل ذرائع نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''بغداد کے مشرق میں عصائب اہل الحق ملیشیا کے سیاسی ونگ صادقون بلاک کی ریلی میں مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ کے قریب یک بعد دیگرے دو بم دھماکے ہوئے ہیں''۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک رپورٹر نے انتخابی ریلی میں دھماکوں کے بعد شدید فائرنگ کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ ریلی کے شرکاء میں افراتفری پھیل گئی اور وہ نزدیک واقع ایک زیر تعمیر عمارت کی جانب بھاگ گئے۔ فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

شیعہ جماعت کے جلسے میں یہ بم دھماکے آیندہ بدھ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے صرف چار روز قبل ہوئے ہیں۔2011ء کے آخر میں عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد یہ پہلے عام انتخابات ہیں اور وزیراعظم نوری المالکی تیسری مدت کے لیے امیدوار ہیں جبکہ ملک میں تشدد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

عراق میں اس سال کے آغاز کے بعد تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ قریباً چار ماہ میں ستائیس سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔اپریل میں اب تک بم دھماکوں ،جھڑپوں اور فائرنگ کے واقعات میں پانچ سو ستر سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں