سفراء کی دوحہ واپسی 'اعلان ریاض' کے نفاذ سے مشروط

خلیج بحران حل کے لیے قطر نے مثبت جواب نہیں دیا: بحرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تین بڑے خلیجی ممالک متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بحرین نے قطر کے ساتھ سفارتی تنازعہ کے خاتمے کو حال ہی میں جاری کردہ 'اعلان ریاض' پر عمل درآمد سے مشروط قرار دیا ہے۔ بحرینی وزیر خارجہ الشیخ خالد بن احمد آل خلیفہ کا کہنا ہے کہ ہمارے سفیر اس شرط پر دوحہ واپس جا سکتے ہیں کہ قطر اعلان ریاض کی شرائط پر عمل درآمد کرے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے خلیج تعاون کونسل کا وزرائے خارجہ سطح کا اجلاس سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقد ہوا، جس میں قطر کے ساتھ خلیجی ممالک کے سفارتی تعطل اور تنازع کے حل پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں قطر پر زور دیا گیا تھا کہ وہ دوسرے ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے عناصر بالخصوص اخوان المسلمون کی پشت پناہی چھوڑ دے اور ایسے لوگوں کو ملک سے نکال دے جو خلیجی ریاستوں کے لیے سیکیورٹی رسک سمجھے جاتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بحرینی وزیر خارجہ نے خلیج تعاون کونسل کے سیکیورٹی سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب میں کہا کہ "ریاض کانفرنس میں ہم نے دوحہ کو کچھ شرائط کے ساتھ ان پر عمل درآمد کی ایک ڈیڈ لائن دی تھی۔ بات چیت اب بھی جاری ہے۔ مجھے امید ہے کہ قطری حکومت اعلان ریاض کی شرائط پر عمل درآمد میں تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ اگر دوحہ نے اعلان ریاض کے نکات تسلیم کر لیے تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین اپنی سفیر دوبارہ دوحہ بھیج دیں گے۔

الشیخ خالد آل خلیفہ کا کہنا تھا کہ 'اعلان ریاض' کی شرائط میں کوئی ابہام نہیں، یہ بالکل واضح ہیں اور ان پر تمام خلیجی ممالک کی قیادت کا اتفاق ہے۔ تمام ممالک ان شرائط کو مانتے ہیں مگر قطر کی جانب سے ہمیں ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔ بحرینی وزیرخارجہ نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل اپنے کسی بھی اندرونی اور بیرونی دشمن کی طرف سے لاحق خطرات کے ازالے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بحرینی وزیر خارجہ سے قبل سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں خطے میں ایران کی بڑھتی مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا۔ بعد ازاں بحرینی وزیر خارجہ نے شہزادہ سعود الفیصل کی ایران بارے موقف کی تائید کی اور کہا کہ ایران کی طرف سے خلیجی ممالک کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی کی خبریں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ تہران اب بھی ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کسی سے جنگ نہیں چاہتے لیکن خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والوں کو سخت جواب دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں