.

مغربی انٹیلی جنس اداروں کا مزید کیمیائی ہتھیاروں کا انکشاف

شام کیطرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں مکمل معلومات نہیں دی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی ممالک کے انٹیلی جنس اداروں نے شام کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 90 فیصد کیمیائی مواد سے نجات پا لینے کے باوجود شام ابھی تک کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ الزامات برطانیہ، فرانس اور امریکی حساس اداروں کی طرف سے حاصل کی گئی اطلاعات کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں۔

مغربی ممالک کے حساس اداروں کی طرف سے ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد حالیہ دنوں میں کیے گئے ان انکشافات کو تقویت ملی ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ شامی افواج نے حال ہی میں اپنے مخالفین کے خلاف کلورین گیس استعمال کی ہے۔

ایک مغربی ملک کے سینئیر سفارتکار نے بتایا ''ہم اس امر کے بارے میں واضح ہیں اور اطلاعات کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ شام نے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں سب کچھ عالمی برادری کیساتھ شئیر نہیں کیا ہے، اس بارے میں انٹیلی جنس کی اطلاعات امریکا، برطانیہ اور فرانس سے حاصل ہوئی ہیں۔

تاہم مغربی سفارتکار نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق کس قدر اطلاعات شام نے عالمی برادری سے چھپا رکھی ہیں اور ابھی بھی اس کے پاس کس مقدار میں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔

واضح رہے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی اور ان کی تلفی کے حوالے سے شام کی فراہم کردہ اطلاعات کی نگرانی کی اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق ادارے او پی سی ڈبلیو او کی مشترکہ ٹیمیں ذمہ دار ہیں۔

دوسری جانب شام ان اطلاعات کی نفی کرتا ہے ۔ شام کا کہنا ہے اس نوعیت کے بے بنیاد الزامات بچگانہ حرکت پر مبنی ہیں، ان الزامات کا مقصد شام کو بلیک میل کرنا ہے۔ اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشارالجعفری نے کہا ان تین ملکوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ غیر ضروری طور پر کیمیائی ہتھیاروں کی مانیٹرنگ کیلیے شام میں روکا جائے۔