.

بیرون ملک مقیم عراقی آج ووٹ ڈال رہے ہیں

عراق میں انتخابات اور نوری المالکی پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے جس میں بیرون ملک مقیم عراقی شہری اپنا حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں سیکیورٹی اداروں سے تعلق رکھنے والے ملازمین جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں بدھ کو عراق میں عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کے دارالحکومت ویلنگٹن میں آج خاموشی کے ساتھ عراقی شہریوں نے اپنے سفارت خانے کے مقرر کردہ پولنگ مراکز پر ووٹ ڈالنے شروع کر دیے ہیں۔ گو کہ بیرون ملک پولنگ کی کوئی زیادہ گہما گہمی نہیں البتہ اندرون ملک وزیر اعظم نوری المالکی کے سیاسی مخالفین بڑھ چڑھ کر انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔

نوری المالکی بھی تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب کے لیے پرعزم ہیں۔ پارلیمانی انتخابات کے مراحل میں ملک میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فسادات کا خدشہ بھی موجود ہے، جس کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اپنی انتخابی منشور میں نوری المالکی کی سیاسی پالیسیوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے "تبدیلی" کا مشترکہ نعرہ لگایا ہے۔ المالکی کے ہم مسلک دو نمائندہ دھڑوں عمار عبدالحکیم اور مقتدیٰ الصدر گروپ نے بھی وزیر اعظم کی پالیسیوں کی مخالفت کی ہے۔

الصدر گروپ نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا ہے۔ جماعت کے سربراہ مقتدیٰ الصدر نے عوامی حلقوں کی جانب سے انتخابی مہمات کے دوران بائیکاٹ پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتخابی عمل میں کسی فریق کی حمایت یا مخالفت کے بجائے عراق میں عدم مداخلت کی پالیسی پر قائم رہے۔

عمار عبدالحکیم کے سیاسی دھڑے 'المواطن' نے اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ یکساں سنگل پارٹی حکومت کے حق میں ووٹ دیں۔

خیال رہے کہ بیرون ملک مقیم عراقی شہری الیکٹرانک اسمارٹ کارڈ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جس کے بعد دھاندلی کے امکانات کم ہوئے ہیں تاہم سیاسی حلقوں کو اب بھی نوری المالکی اور ان کے حامی اشرافیہ کی جانب سے غیر معمولی پیمانے پر دھاندلی کرانے کا خوف ہے۔