شام: خاتون سمیت چار اور صدارتی امیدوار سامنے آگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں تین جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ایک خاتون سمیت چار اور امیدوار سامنے آگئے ہیں۔

شامی پارلیمان کے اسپیکر محمد جہاد اللحام نے اتوار کو ایک براہ راست نشری بیان میں بتایا ہے کہ ساسن حداد،سمیر معلیٰ ،محمد فراس راجح اور عبدالسلام سلامہ نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اپنے نام پیش کیے ہیں۔

اس طرح اب تک صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے پارلیمان میں چھے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔ان سے قبل امریکا سے تعلیم یافتہ ایک کاروباری شخصیت حسن عبداللہ النوری اور ایک آزاد رکن پارلیمان ماہر عبدالحفیظ الحجار نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

ان میں ساسن حداد اب تک واحد خاتون امیدوار ہیں۔وہ ایک میکنیکل انجنئیر ہیں اور شمال مغربی صوبہ اللاذقیہ سے تعلق رکھتی ہیں۔سمیر معلیٰ جنوبی صوبہ قنیطرہ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ہیں۔محمد فراس راجح دمشق اور سلامہ وسطی شہر حمص سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں دو ایک سوا باقی امیدوار شامی سیاست میں غیر معروف ہیں اور ان میں بارے میں بہت کم تفصیل دستیاب ہے۔

ابھی تک صدر بشارالاسد نے اپنے امیدوار ہونے کا اعلان نہیں کیا۔تاہم ان کے بارے میں توقع یہی ہے کہ وہ ان انتخابات میں حصہ لیں گے اور بآسانی فاتح بن جائیں گے۔ بشارالاسد 2000ء میں اپنے والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد ملک کے صدر بنے تھے۔ان کی موجودہ صدارتی مدت 17 جولائی کو ختم ہو گی۔

واضح رہے کہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ اس کو پارلیمان کے دوسوپچاس اراکین مِیں سے پینتیس کی حمایت حاصل ہو۔پارلیمان میں ایک سو ساٹھ ارکان صدر بشارالاسد کی بعث پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

ترمیم شدہ انتخابی قانون کے تحت صدارتی امیدواروں کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ گذشتہ ایک عشرے سے شام ہی میں مقیم ہوں۔اس طرح جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی شامی حزب اختلاف کی شخصیات کو اس قانون کے تحت صدارتی انتخاب کی دوڑ سے باہر کردیا گیا ہے۔

شامی آئین میں ترامیم کے بعد یہ پہلے صدارتی انتخابات ہیں جن میں ایک سے زیادہ امیدوار میدان میں اتر رہے ہیں۔قبل ازیں ریفرینڈم نما انتخاب میں حکمراں بعث پارٹی کا ایک ہی صدارتی امیدوار ہوا کرتا تھا اور وہ بآسانی منتخب ہوجاتا تھا۔

بعث پارٹی گذشتہ قریباً پینتالیس سال سے شام میں حکمراں چلی آرہی ہے لیکن اب گذشتہ تین سال سے اس کے اقتدار کے خلاف مسلح عوامی بغاوت برپا ہے۔اس دوران خانہ جنگی کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہِیں اور شام کی نصف آبادی اندرون اور بیرون ملک مہاجر کیمپوں میں زندگی کے دن کاٹ رہی ہے۔

شامی حزب اختلاف نے ان انتخابات کو ڈھونگ قراردے کر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری ان کے نتائج کو مسترد کردے گی۔حزب اختلاف نے حکومت کے ساتھ مزید بات چیت اور تین سال سے جاری بحران کے حل کے لیے کسی حتمی معاہدے سے قبل بشارالاسد کی رخصتی کی شرط عاید کررکھی ہے۔امریکا اور اقوام متحدہ نے بھی خانہ جنگی کا شکار شام میں اسد حکومت کی جانب سے صدارتی انتخابات کے انعقاد کی مخالفت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں