.

بشار الاسد کا صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان

صدارتی انتخاب کیلیے سات امیدوار سامنے آ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشار الاسد نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کیلیے اپنے کاغذات پیر کے روز جمع کرا دیے ہیں۔ وہ اپوزیشن اور عالمی برادری کی سخت مخالفت کے باوجود تیسری مرتبہ صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

شام میں صدارتی انتخاب تین جون کو متوقع ہیں۔ پارلیمان کے سپیکر جہاد اللحام نے اعلان سرکاری ٹی وی کے ذریعے کیا ہے۔ سپیکر کے مطابق بشارالاسد نے یہ کاغذات نامزدگی آئینی عدالت میں پیش کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ''میں بشار حافظ الاسد اپنے آپ کو جمہوریہ کے صدارتی منصب کیلیے نامزد کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ میری تائید کرے گی۔ ''

واضح رہے بشار الاسد 2000 سے اقتدار میں ہیں۔ اس سے پہلے ان کے والد حافظ الاسد ملک کے سربراہ تھے۔ شام میں صدارتی مدت سات سال پر محیط ہے۔ بشار الاسد کو عالمی برادری اور اپوزیشن تین سالہ خانہ جنگی کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔ اس خانہ جنگی کے دوران ڈیڑھ لاکھ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ ایک تہائی سے زائد آبادی دوسرے ملکوں میں منتقل ہو چکی ہے۔

اس صورت حال میں عرب لیگ نے شام کو عرب لیگ کی رکنیت سے محروم کرنے کے بعد یہ رکنیت شام کی متحدہ اپوزیشن کو دینے کی پیش کش کر رکھی ہے۔ شامی پارلیمنٹ کے ذرائع کے مطابق اب تک کل سات صدارتی امیدوار سامنے آ چکے ہیں۔

شامی وزیر اطلاعات عمران الزوہبی کا کہنا ہے صدارتی انتخاب ملتوی نہیں ہو ں گے، جبکہ اس دوران فوجی آپریشن بھی جاری رکھا جائے گا۔