.

بغداد: پولنگ سٹیشن پر خود کش حملہ، گیارہ زخمی

صحافیوں کی بس دھماکے سے اڑانے کی کوشش، 6 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ایک خود کش حملے میں کم از کم چار پولیس اہلکاروں سمیت گیارہ افراد زخمی ہو گئے۔ یہ خود کش دھماکہ پیر کے روز ایک پولنگ اسٹیشن پر کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوور نے بارود بھری بیلٹ باندھ کر پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں سکیورٹی اہلکاروں کیلیے قائم پولنگ سٹیشن کو نشانہ بنایا ہے۔

یہ پولنگ سٹیشن بغداد میں نشانہ بنا ہے۔ درایں اثناء شمالی شہر موصل میں ایک دھماکے سے چھ صحافیوں کو زخمی کر دیا گیا ہے۔ یہ صحافی بس پر سوار تھے جو دوران سفر بم دھماکے کا نشانہ بنائی گئی۔ تیس اپریل کو ہونے والے عام انتخاب سے دو روز قبل سکیورٹی سے متعلق اداروں کے اہلکاروں کیلیے ووٹ ڈالنے کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ 30 اپریل کو وہ پوری یکسوئی اور افرادی قوت کے ساتھ الیکشن ڈیوٹی کے لیے دستیاب رہیں۔

بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کے علاوہ طبی شعبے سے وابستہ اہلکار اور جیلوں کا عملہ بھی آج ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہا ہے۔ واضح رہے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد عراق میں یہ پہلے عام انتخابات ہیں۔ وزیر اعظم نورالمالکی نے ان بم دھماکوں کی مذمت کی ہے۔

اس سے پہلے ایک ماہ تک چلنے والی انتخابی مہم کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے، تاہم مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ واضح رہے عراق میں تشدد کے واقعات 2008 سے ہو رہے ہیں۔

تازہ حملوں میں امیدواروں، انتخابی عملے، انتخابی جلسوں اور ریلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر 30 اپریل کیلیے حکومت نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ تاہم شیعہ سنی کشیدگی کی وجہ سے دہشت گردی کے مزید واقعات کا خطرہ ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دو روز بعد ہونے والے عام انتخابات میں کسی ایک ہی پارٹی کے اکثریت لے کر جیتنے کے امکانات کم ہیں۔ اس لیے انتخاباتکے بعد زیادہ امکان مخلوط حکومت بننے کا ہے۔