.

سعودی عرب میں خواتین کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کا دہندہ

چیکنگ سے بچنے کے لیے منشیات عورتوں کے ذریعے پہنچائی جانے لگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منشیات اسمگلنگ کے عالمی نیٹ ورک میں خواتین کی شمولیت کے بعد اب اس مکروہ دھندے میں سعودی خواتین کو بھی کھلے عام استعمال کیا جانے لگا ہے۔ حال ہی میں حکام نے خواتین اور مرد منشیات اسمگلروں کو حراست میں لیا جن سے تفتیش کے بعد پتہ چلا کہ تلاشی اور چیکنگ سے بچنے کے لیے سماج دشمن عناصر اس گھناؤنے کاروبار میں صنف نازک کو ایک "ڈھال" کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے محکمہ انسداد منشیات عبدالالہ الشریف نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ پولیس نے حالیہ کچھ عرصے میں منشیات اسمگلروں کے خلاف کارروائی میں کئی مرد اور عورتیں حراست میں لی ہیں۔ ان سے تفتیش کے دوران پتہ چلا ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے چیک پوسٹوں سے خواتین کے ذریعے نشہ آور اشیاء آگے پہنچاتے رہے ہیں۔ چونکہ عموماً چیک پوسٹوں پر خواتین کی تلاشی نہیں لی جاتی، اس لیے اسمگلر انہیں بہ طور ڈھال استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ اب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ سماج دشمن لوگ خواتین کو منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اس لیے اب چیک پوسٹوں پر تلاشی کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حراست میں لیے گئے منشیات اسمگلروں کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے اوران کے خلاف مزید تحقیقات کا عمل بھی جاری ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے سیکیورٹی حکام نے رواں سال کے پچھلے تین ماہ میں منشیات کی بھاری مقدار قبضے میں لینے اور اسمگلروں پر ہاتھ ڈالنے کی کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ پکڑی گئی منشیات میں 34 ملین نشہ آور گولیاں بھی شامل ہیں۔ گذشتہ برس پولیس کی کارروائیوں میں 45 ٹن حشیش اور 55 کلو گرام ہیروئن سعودی عرب داخلے کی کوشش کے دوران قبضے میں لی گئی تھی۔

پچھلے چار سال میں سعودی پولیس برائے انسداد منشیات نے دیگر سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے 214 ملین نشہ آور گولیاں قبضے میں لیں۔ اس کے علاوہ 111 ٹن حشیش اور 150 کلو گرام ہیروئن ضبط کی گئی۔