.

مبارک کا تختہ الٹنے میں معاون جماعت پر مصر میں پابندی

تحریک پر مصر کی قومی سلامتی کی توہین اورمعیشت کو نقصان پہنچانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی ایک عدالت نے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی مہم میں پیش پیش 6 اپریل تحریک پر پابندی عاید کردی ہے۔

قاہرہ عدالت نے یہ حکم ایک وکیل کی جانب سے دائرکردہ درخواست پر صادر کیا ہے۔اس میں 6 اپریل تحریک پر ''غیرملکی فریقوں'' سے مل کر مصر کے خلاف سازش کا الزام عاید کیا گیا تھا۔اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس تحریک کے زیر اہتمام مظاہروں سے ''قومی سلامتی'' کی توہین ہوئی تھی اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچا تھا۔

سوموار کوعدالت کے حکم کے بعد جاری کردہ سرکاری دستاویز میں عدالت نے 6 اپریل تحریک کے خلاف لگائے گئے ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔البتہ اس نے قراردیا ہے کہ درخواست گزار وکیل اشرف سعید نے جو ایشوز اٹھائے تھے،وہ حقیقی خطرے کی عکاسی کرتے ہیں۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کو اس خطرے سے نجات دلا دی جائے۔

وکیل نے اپنی درخواست میں تحریک پر یہ بھی الزام عاید کیا تھا کہ اس نے امریکا سے تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی،میڈیا کو ملک میں انارکی پھیلانے کے لیے استعمال کیا تھا اور اس نے سکیورٹی اداروں کی عمارت پر حملے کیے تھے۔اس میں 2011ء میں مصر کی داخلی خفیہ ایجنسی کے ہیڈکوارٹرز پر حملے کی جانب اشارہ کیا گیا تھا۔

قاہرہ کی عدالت برائے فوری امور نے آج 6 اپریل تحریک پر پابندی عاید کرنے کا حکم صادر کیا ہے اور اسی عدالت نے گذشتہ سال ملک کی سب سے منظم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون پر پابندی عاید کردی تھی۔اس فیصلے کے ردعمل میں تحریک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھیں گے اور اپنی مرضی کے مطابق اپنی آراء کا اظہار کرتے رہیں گے''۔

واضح رہے کہ 6 اپریل تحریک نے سوشل میڈیا کے ذریعے حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اس کی اپیل پر مصر میں عرب بہاریہ تحریک کے عروج کے دنوں میں 25 جنوری 2011ء کو قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں فقیدالمثال احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا جس کے اٹھارہ روز کے بعد مصر کے سیاہ وسفید کے مالک صدر کو گھٹنے ٹیکنا پڑے تھے۔

اس تحریک نے حسنی مبارک کے بعد ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا اور اس جیسی دوسری تحریکوں کے مظاہروں کے بعد ہی مسلح افواج کے سربراہ (اب سابق) فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے ڈاکٹر مرسی کی حکومت ختم کردی تھی لیکن مرسی حکومت کے خلاف 6 اپریل تحریک کو مظاہروں کی قیمت بھی چکانا پڑی تھی۔ مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت نے ملک میں پیشگی اجازت کے بغیر جلسے جلوسوں پر پابندی عاید کردی تھی اور جمہوری آزادیوں کے حق میں مظاہروں میں حصہ لینے کے الزام میں اس تحریک کے لیڈروں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

دسمبر 2013ء میں مصر کی ایک اور عدالت نے 6 اپریل تحریک کے سرکردہ لیڈروں احمد ماہر ،محمد عادل اور احمد دوما کو غیر قانونی طور پر احتجاجی مظاہرے کرنے کے الزام میں تین تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔انھوں نے اس سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی لیکن ان کی یہ اپیل مسترد کردی گئی تھی۔

مغرب کی حکومتیں مصر کی موجودہ حکومت کی ڈاکٹر مرسی کی جولائی 2013ء میں برطرفی کے بعد سے جابرانہ پالیسیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرچکی ہیں لیکن انھوں نے مصر کی عبوری حکومت پر ایسا کوئی معنی خیز دباؤ نہیں ڈالا ہے جس سے کہ مصری حکومت سیاسی کارکنان کے خلاف سخت گیر اقدامات سے باز آجاتی۔چنانچہ اس نے اخوان المسلمون کو خاص طور پر دبانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اوراس کے کارکنوں کو سیکڑوں کی تعداد میں پھانسیوں کی سزائیں سنائی جارہی ہیں۔