.

عبدالفتاح السیسی کا ''بے مثال'' ووٹر ٹرن آؤٹ پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے آیندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخاب میں ''بے مثال'' ٹرن آؤٹ کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے یہ بات مصر کی سیاحت کی صنعت سے وابستہ سرمایہ کاروں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ جو کوئی بھی ان انتخابات میں فاتح بن کر ابھرتا ہے،اس بات سے قطع نظر مصریوں کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلنا چاہیے۔

ان صدارتی انتخابات میں السیسی کا بائیں بازو کے امیدوار حمدین صباحی سے مقابلہ ہے لیکن ان کے بارے میں پہلے ہی سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ یہ انتخاب بآسانی جیت جائیں گے۔

عبدالفتاح السیسی نے مذہبی انتہا پسندوں پر مصر کی سیاحت کی صنعت کو نقصان پہنچانے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ غیرمتعلقہ مذہبی مناقشے کی بنا پر سیاحت کے شعبے کو گذشتہ پچاس سے مسلسل نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ان کے بہ قول اس مذہبی مناقشے کا ترقی اور موجودہ وقت کے تقاضوں کو سمجھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ عبدالفتاح السیسی کو مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے آرمی چیف کے منصب پر فائز کیا تھا لیکن انھوں نے گذشتہ سال جولائی میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد ڈاکٹر مرسی ہی کو چلتا کیا تھا اور بعد میں ان کی جماعت اخوان المسلمون کو دہشت گرد قراردے کر اس پر پابندی لگا دی تھی۔

گذشتہ مہینوں کے دوران ملک کی اس سب سے بڑی اور منظم جماعت کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اس کے ڈیڑھ سے دوہزار کے درمیان کارکنان مارے جاچکے ہیں۔اس کے ردعمل میں اخوان اور اس کی ہم نوا مذہبی سیاسی جماعتوں نے صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کررکھا ہے اور وہ فوجی کی نگرانی میں قائم حکومت کے اقدامات کو جائز اور قانونی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔