.

حمص اور دمشق میں کار بم اور مارٹر حملے،50 ہلاکتیں

شامی دارالحکومت کے وسط میں واقع ایک اسکول کمپلیکس میں مارٹروں سے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے وسطی شہر حمص میں دو کاربم دھماکوں اور دارالحکومت دمشق میں مارٹروں کے حملے میں پچاس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق حمص میں منگل کو ایک مصروف چوراہے کے نزدیک دو کار بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت سینتیس افراد مارے گئے ہیں۔ایک مقامی سکیورٹی عہدے دار نے ان بم دھماکوں میں بیالیس افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ادھر دارالحکومت دمشق کے وسطی علاقے میں واقع ایک اسکول کمپلیکس میں دو مارٹر گولے گرے ہیں جن کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی اطلاع کے مطابق مارٹروں کا نشانہ بننے والے بدرالدین حسینی کمپلیکس میں پرائمری اور اسکینڈری اسکول کے طلبہ زیر تعلیم ہیں۔سانا نے حملے میں بارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ شامی آبزرویٹری نے تیرہ ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔

درایں اثناء انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زوردیا ہے کہ شامی فوج کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے اقدامات کرے۔

نیویارک میں قائم تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی فوج بیرل بموں کو شہریوں پر حملے کے لیے استعمال کررہی ہے۔اس لیے سلامتی کونسل شامی حکومت پر اسلحے کی پابندی عاید کرے۔تنظیم نے کونسل سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث گروپوں پر پابندی عاید کی جائے۔