سیاسی اور خفیہ اداروں سے پاکستانی صحافیوں کو خطرات

پاکستان بدستور صحافیوں کے لیے خطرناک ملک ہے: ایمنسٹی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحافی تشدد، قتل اور ہراساں کیے جانے جیسے خطرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی رپورٹ کے مطابق صحافیوں کو یہ خطرات انٹیلی جنس ایجنسیوں، سیاسی جماعتوں، مسلح گروپوں اور طالبان سے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی اس رپورٹ میں پاکستان میں 2008ء میں جمہوریت کی بحالی کے بعد اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے باعث ہلاک ہونے والے 34 صحافیوں کے واقعات شامل کیے ہیں جن میں سے صرف ایک صحافی کے قتل میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکا۔

اس سال کی رپورٹ کا عنوان ہے کہ ''آپ کے لیے گولی منتخب کر لی گئی ہے: پاکستان میں صحافیوں پر حملے"۔ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ انتظامیہ کیسے صحافت سے وابستہ افراد کے خلاف حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں روکنے میں تقریباً ناکام ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ 34 صحافیوں کے قتل کے واقعات قلمبند کیے گئے ہیں لیکن اس عرصے کے دوران کئی صحافیوں کو دھمکیاں ملیں، اُنھیں ہراساں یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا وہ قاتلانہ حملوں میں بچ نکلے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا بحرالکاہل کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ گریفتھس کا کہنا ہے کہ پاکستان کی صحافی برادری بڑی حد تک گھیرے میں ہے۔

اس رپورٹ کی تیاری کے لیے 70 واقعات کی تفصیل سے تحقیقات کی گئی اور صحافت سے وابستہ 100 سے زیادہ افراد کے انٹرویو قلمبند کیے گئے۔

رپورٹ میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر بھی صحافیوں کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس امر کی تحقیق حکومت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

ملک کے شمال اور جنوب مغرب میں شورش زدہ علاقوں میں طالبان، لشکر جھنگوی اور قوم پرست بلوچ مسلح گروپوں کو صحافیوں کے لیے ایک کھلا خطرہ قرار دیا گیا۔

ڈیوڈ گریفتھس کا کہنا تھا کہ حکومت نے صحافیوں کے لیے حالات کو بہتر کرنے کا وعدہ کیا لیکن اس بارے میں صرف چند ہی ٹھوس اقدامات کیے۔

رپورٹ میں میڈیا اداروں کے مالکان پر بھی زور دیا گیا کہ وہ اپنے نمائندوں کو مناسب تربیت اور صحافیوں کی معاونت کو یقینی بنائیں۔

پاکستان میں حکومت کے عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ دہشت گردی نے جہاں معاشرے کے دیگر تمام طبقوں کو متاثر کیا اس کے اثرات سے صحافی بھی نا بچ سکے۔

اعلیٰ حکام بشمول وزیر اطلاعات پرویز رشید اپنے حالیہ بیان میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور اس ضمن میں جہاں ضروری ہوا قانون سازی بھی کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں